حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 23 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 23

حالت میں ہیں۔یہاں تک کہ بعض کو اپنے وعدوں پر بھی ثابت رہنا مشکل ہے۔لیکن جب میں اس استقامت اور جاں فشانی کو دیکھتا ہوں جو صاحبزادہ مولوی محمد عبد اللطیف مرحوم سے ظہور میں آئی تو مجھے اپنی جماعت کی نسبت بہت امید بڑھ جاتی ہے۔کیونکہ جس خدا نے بعض افراد اس جماعت کو یہ توفیق دی کہ نہ صرف مال بلکہ جان بھی اس راہ میں قربان کر گئے۔اس خدا کا صریح یہ منشاء معلوم ہوتا ہے۔کہ وہ بہت سے ایسے افراد اس جماعت میں پیدا کرے جو صاحبزادہ مولوی عبداللطیف کی روح رکھتے ہوں اور ان کی روحانیت کا ایک نیا پودہ ہوں۔جیسا کہ میں نے کشفی حالت میں واقعہ شہادت مولوی صاحب موصوف کے قریب دیکھا کہ ہمارے باغ میں سے ایک بلند شاخ سرو کی کائی گئی لے اور میں نے کہا اس شاخ کو زمین میں دوبارہ نصب کر دو تا وہ بڑھے اور پھولے سو میں نے اس کی یہی تعبیر کی کہ خدا تعالیٰ بہت سے ان کے قائمقام پیدا کر دے گا سو میں یقین رکھتا ہوں کہ کسی وقت میرے اس کشف کی تعبیر ظاہر ہو جائے گی۔بقیہ حالات حضرت صاحبزادہ مولوی عبد اللطیف حساب مرحوم میاں احمد نور جو حضرت صاحبزادہ مولوی عبد اللطیف صاحب کے خاص شاگرد ہیں۔۸/ نومبر ۱۹۰۳ء کو مع عیال خوست سے قادیان پہنچے۔ان کا بیان ہے کہ مولوی صاحب کی لاش برابر چالیس دن تک ان پتھروں میں پڑی رہی جن میں وہ سنگسار کئے گئے تھے بعد اس لے اس سے پہلے ایک صریح وحی الہی صاحبزادہ مولوی عبد اللطیف صاحب مرحوم کی نسبت ہوئی تھی جبکہ وہ زندہ تھے بلکہ قادیان میں ہی موجود تھے اور یہ وحی الہی میگزین انگریزی ۹ فروری ۱۹۰۳ ء اور الحکم ۱۷/ جنوری ۱۹۰۳ء اور البدر ۱۶ / جنوری ۱۹۰۳ء کالم نمبر ۲ میں شائع ہو چکی ہے جو مولوی صاحب کے مارے جانے کے بارے میں ہے اور وہ یہ ہے کہ قُتِل خيبةً وَزَيَّدھیب یعنی ایسی حالت میں مارا گیا کہ اس کی بات کو کسی نے نہ سنا اور اس کا مارا جانا ایک ہیبت ناک امر تھا یعنی لوگوں کو بہت ہیبت ناک معلوم ہوا اور اس بات کا بڑا اثر دلوں پر ہوا۔منہ 23