حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 10
نیت سے حج نہ کر سکا۔اور قادیان میں ہی دن گزر گئے تو قبل اس کے کہ وہ سر زمین کابل میں وارد ہوں۔اور حد و دریاست کے اندر قدم رکھیں احتیاطا قرین مصلحت سمجھا کہ انگریزی علاقہ میں رہ کر امیر کابل پر اپنی سرگزشت کھول دی جائے۔کہ اس طرح پر حج کرنے سے معذوری پیش آئی۔انہوں نے مناسب سمجھا کہ بریگیڈیر محمد حسین کو خط لکھا تا وہ مناسب موقعہ پر اصل حقیقت مناسب لفظوں میں امیر کے گوش گزار کر دیں۔اور اس خط میں یہ لکھا کہ اگر چہ میں حج کے لئے روانہ ہوا تھا۔مگر مسیح موعود کی مجھے زیارت ہوگئی اور چونکہ مسیح کے ملنے کے لئے اور اس کی اطاعت مقدم رکھنے کے لئے خدا اور رسول کا حکم ہے۔اس مجبوری سے مجھے قادیان میں ٹھہر نا پڑا۔اور میں نے اپنی طرف سے یہ کام نہ کیا۔بلکہ قرآن اور حدیث کی رُو سے اسی امر کو ضروری سمجھا۔جب یہ خط بریگیڈیئر محمد حسین کو توال کو پہنچا تو اس نے وہ خط اپنے زانو کے نیچے رکھ لیا اور اس وقت پیش نہ کیا۔مگر اس کے نائب کو جو مخالف اور شریر آدمی تھا۔کسی طرح پتہ لگ گیا۔کہ یہ مولوی صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کا خط ہے اور وہ قادیان میں ٹھہرے رہے۔تب اس نے وہ خط کسی تدبیر سے نکال لیا اور امیر صاحب کے آگے پیش کر دیا۔امیر صاحب نے بریگیڈیئر محمد حسین کو تو ال سے دریافت کیا کہ کیا یہ خط آپ کے نام آیا ہے۔اس نے امیر کے موجودہ غیظ و غضب سے خوف کھا کر انکار کر دیا۔پھر ایسا اتفاق ہوا کہ مولوی صاحب شہید نے کئی دن پہلے خط کے جواب کا انتظار کر کے ایک اور خط بذریعہ ڈاک محمد حسین کو تو ال کو لکھا۔وہ خط افسر ڈاک خانہ نے کھول لیا اور امیر صاحب کو پہنچا دیا چونکہ قضاء و قدر سے مولوی صاحب کی شہادت مقد رتھی۔اور آسمان پر وہ برگزید بزمرہ شہداء داخل ہو چکا تھا۔اس لئے امیر صاحب نے ان کو بلانے کے لئے حکمت عملی سے کام لیا۔اور ان کی طرف خط لکھا کہ آپ بلا خطرہ چلے آؤ۔اگر یہ دعوی سچا ہوگا تو میں بھی مرید ہو جاؤں گا۔بیان کرنے والے کہتے ہیں کہ ہمیں یہ معلوم نہیں کہ خط امیر صاحب نے ڈاک میں بھیجا تھا یا دستی روانہ کیا تھا۔بہر حال اس خط کو دیکھ کر مولوی صاحب موصوف کابل کی طرف روانہ ہو گئے اور قضاء وقدر نے نازل 10