حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 9 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 9

بیان واقعه بائلہ شہادت مولوی صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب مرحوم رئیس اعظم خوست علاقہ کا بل غفر اللہ الہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ مولوی صاحب خوست علاقہ کابل سے قادیان میں آکر کئی مہینہ میرے پاس اور میری صحبت میں رہے۔پھر بعد اس کے آسمان پر یہ امر قطعی طور پر فیصلہ پاچکا۔کہ وہ درجہ شہادت پاویں تو اس کے لئے یہ تقریب پیدا ہوئی کہ وہ مجھ سے رخصت ہو کر اپنے وطن کی طرف واپس تشریف لے گئے۔اب جیسا کہ معتبر ذرائع سے اور خاص دیکھنے والوں کی معرفت مجھے معلوم ہوا ہے۔قضاء وقدر سے یہ صورت پیش آئی کہ مولوی صاحب جب سرزمین علاقہ ریاست کابل کے نزدیک پہنچے تو علاقہ انگریزی میں ٹھہر کر بریگیڈیر محمد حسین کوتوال کو جو ان کا شاگر د تھا۔ایک خط لکھا کہ اگر آپ امیر صاحب سے میرے آنے کی اجازت حاصل کر کے مجھے اطلاع دیں تو امیر صاحب کے پاس بمقام کابل میں حاضر ہو جاؤں بلا اجازت اس لئے تشریف نہ لے گئے کہ وقت سفر امیر صاحب کو یہ اطلاع دی تھی کہ میں حج کو جاتا ہوں۔مگر وہ ارادہ قادیان میں بہت دیر تک ٹھہرنے کے پورا نہ ہو سکا اور وقت ہاتھ سے جاتا رہا۔اور چونکہ وہ میری نسبت شناخت کر چکے تھے۔کہ یہی شخص مسیح موعود ہے۔اس لئے میری صحبت میں رہنا ان کو مقدم معلوم ہوا۔اور بموجب نص اَطِيْعُوا اللَّهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُولَ حج کا ارادہ انہوں نے کسی دوسرے سال پر ڈال دیا۔اور ہر ایک دل اس بات کو محسوس کر سکتا ہے کہ ایک حج کا ارادہ کرنے والے کے لئے اگر یہ بات پیش آجائے۔کہ وہ اس مسیح موعود کو دیکھ لے جس کا تیرہ سو (۱۳۰۰) برس سے اہلِ اسلام میں انتظار ہے۔تو بموجب نص صریح قرآن اور احادیث کے وہ بغیر اس کی اجازت کے حج کو نہیں جاسکتا۔ہاں باجازت اس کے دوسرے وقت میں جاسکتا ہے۔غرض چونکہ وہ مرحوم سید الشہداء اپنی صحت égè 9