حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 8 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 8

پور حصہ لے چکے تھے۔اور اتفاقا ان کی حاضری کے ایام میں بعض کتابیں میری طرف سے جہاد کی ممانعت میں چھپی تھیں۔جن سے ان کو یقین ہو گیا تھا کہ یہ سلسلہ جہاد کا مخالف ہے پھر ایسا اتفاق ہوا کہ جب وہ مجھ سے رخصت ہو کر پشاور میں پہنچے تو اتفاقا خواجہ کمال الدین صاحب پلیڈر سے جو پشاور میں تھے اور میرے مرید ہیں ملاقات ہوئی اور انہیں دنوں میں خواجہ کمال الدین صاحب نے ایک رسالہ جہاد کی ممانعت میں شائع کیا تھا۔اس سے ان کو بھی اطلاع ہوئی اور وہ مضمون ایسا ان کے دل میں بیٹھ گیا کہ کابل میں جا کر جابجا انہوں نے یہ ذکر شروع کیا۔کہ انگریزوں سے جہاد کرنا درست نہیں کیونکہ وہ ایک کثیر گروہ مسلمانوں کے حامی ہیں اور کئی کروڑ مسلمان امن و عافیت سے ان کے زیر سایہ زندگی بسر کرتے ہیں۔تب یہ خبر رفتہ رفتہ امیر عبدالرحمن کو پہنچ گئی۔اور یہ بھی بعض شریر پنجابیوں نے جو اس کے ساتھ ملازمت کا تعلق رکھتے ہیں اس پر ظاہر کیا کہ یہ ایک پنجابی شخص کا مرید ہے جو اپنے تئیں مسیح موعود ظاہر کرتا ہے اور اس کی یہ بھی تعلیم ہے کہ انگریزوں سے جہاد درست نہیں۔بلکہ اس زمانہ میں قطعا جہاد کا مخالف ہے۔تب امیر یہ بات سن کر بہت برافروختہ ہو گیا اور اس کو قید کرنے کا حکم دیا۔تا مزید تحقیقات سے کچھ زیادہ حال معلوم ہو۔آخر یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ ضرور یہ شخص مسیح قادیانی کا مرید اور مسئلہ جہاد کا مخالف ہے۔تب اس مظلوم کو گردن میں کپڑا ڈال کر اور دم بند کر کے شہید کیا گیا۔کہتے ہیں کہ اس کی شہادت کے وقت بعض آسمانی نشان ظاہر ہوئے۔یہ تو میاں عبد الرحمن شہید کا ذکر ہے۔اب ہم مولوی صاحبزادہ عبداللطیف کی شہادت کا درد ناک ذکر کرتے ہیں اور اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہیں کہ اس قسم کا ایمان حاصل کرنے کے لئے دُعا کرتے رہیں جب تک انسان کچھ خدا کا اور کچھ دنیا کا ہے تب تک آسمان پر اس کا نام مومن نہیں۔8