حضرت سیٹھ عبدالرحمٰن صاحب مدراسی ؓ — Page 6
9 8 شدید مخالفت اور قادیان دارالامان روانگی عزیز بچو! اللہ تعالیٰ کے مامورین کو ماننا قربانی مانگتا ہے اور آپ کے ساتھ بھی یہی ہوا کہ جب حضرت سیٹھ صاحب اور آپ کے دوستوں کے احمدیت قبول کرنے کی خبر پھیلی تو ان کی شدید مخالفت شروع ہوگئی۔اس مخالفت نے آپ کے دل میں حضرت اقدس علیہ السلام کی زیارت کی خواہش کو اور بھی بڑھا دیا۔چنانچہ آپ نے مولوی حسن علی صاحب جو کہ اس وقت تک احمدی نہ ہوئے تھے کو ساتھ لے جانے کا ارادہ کیا۔چنانچہ آپ نے مولوی صاحب کو اس ضمن میں تحریک کی تو انہوں نے دعاؤں اور استخاروں کے بعد جانے کا فیصلہ کر لیا۔چنانچہ یہ دونوں بزرگ جو اس وقت بمبئی میں تھے قادیان کے لئے روانہ ہو گئے۔جب آپ امرتسر پہنچے تو مولوی محمد حسین بٹالوی کا کوئی مرید آپ سے ملا۔ہوتا گیا یہاں تک کہ دارالامان کا نظارہ نظر آنے لگا اور جامع (بیت الذکر) مجھے ایک بقعہ نور نظر آتی تھی۔۔۔جب یہاں پہنچے تو میری اپنی یہ حالت تھی کہ ذوق اور محبت سے بھر گیا تھا اور عجیب وغریب لذت اپنے اندر محسوس کر رہا تھا۔“ (ضمیمہ آپ بیتی مکتوبات جلد نمبر 5 حصہ اول ص 50) امام زمانہ حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت آپ کی ملاقات پہلے حضرت مولوی نورالدین صاحب سے ہوئی۔انہوں نے آپ کی رہائش کا انتظام کر دیا۔مولوی حسن علی صاحب تو اس مکان میں چلے گئے مگر آپ ابھی حضرت حکیم نورالدین صاحب کے پاس ہی تھے کہ کسی نے آکر خبر دی کہ حضرت مسیح موعود اس مکان پر تشریف لے گئے ہیں جہاں ان دونوں اس نے آپ دونوں کو قادیان جانے سے روکنے کی پوری کوشش کی مگر اس کی یہ بزرگوں کو ظہرایا گیا تھا۔آپ اسی وقت اس مکان کی طرف چلے گئے۔یہ آپ کی پہلی کوشش اللہ کے بندوں کو روکنے میں نہ کامیاب ہوئی تھی اور نہ ہوئی۔آپ ایک زیارت تھی۔آپ اس کا حال اس طرح بیان فرماتے ہیں۔رات امرتسر ٹھہرے اور اگلے روز بٹالہ روانہ ہوئے۔بٹالہ میں بھی مولوی محمد حسین صاحب کے ایک مرید نے روکنے کی کوشش کی مگر وہ بھی نا کام ہوا۔اور آپ بٹالہ سے یکہ لے کر قادیان کی طرف روانہ ہوئے۔خدا کے پیارے کی اس بستی کی طرف جانے کی کیفیت کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے لکھا ہے کہ جوں جوں دارالامان کے نزدیک ہوتے گئے ویسے ہی دل پر ایک اثر " میری نظر چہرہ مبارک پر پڑی۔میں حلفا گزارش کرتا ہوں کہ حضور کا سراپا اس وقت ایک نور مجسم مجھے نظر آیا اور میں آنکھ بند کر کے حضور کی دست بوسی کر نے لگا اور جوش محبت کے ساتھ میری آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔" (ضمیمہ آپ بیتی مکتوبات احمد یہ جلد نمبر 5 حصہ اول ص 50)