حضرت سیٹھ عبدالرحمٰن صاحب مدراسی ؓ

by Other Authors

Page 5 of 13

حضرت سیٹھ عبدالرحمٰن صاحب مدراسی ؓ — Page 5

7 میں قرباں ہوں دل سے تیری راہ کا نشاں مجھے دے مرد آگاہ کا ایک روز آپ بنگلور میں اپنے گھر میں تھے۔اس وقت آپ کے بھائی ذکریا بیمار تھے اور ایک منشی بھی آپ کے پاس تھے اور وہاں پر موجودہ زمانہ کی حالت زار کا ذکر ہور ہا تھا۔اسی اثناء میں محمد صالح جو کہ حضرت سیٹھ صاحب کے چھوٹے بھائی تھے ، وہ عبدالطیف صاحب شہید نے بھی حضرت اقدس کی کتاب آئینہ کمالات اسلام کا مطالعہ کیا تو آپ پر دل و جان سے قربان ہو گئے۔ہمیں بھی حضرت اقدس علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ کرنا چاہئے۔ان سے اللہ تعالی کی برکات نازل ہوتی ہیں۔بہر حال بات ہو رہی تھی کہ حضرت سیٹھ عبدالرحمن صاحب نے حضرت آئے اور کہا کہ مجھے سیالکوٹ سے غلام فاروق صاحب نے یہ کتاب بھیجی ہے۔وہ اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب فتح اسلام کا مطالعہ کیا تو آپ نے یہ فیصلہ کتاب حضرت اقدس مسیح موعود کی تصنیف فتح اسلام تھی۔یہ کتاب آپ کے بھائی نے کیا کہ حضرت اقدس علیہ السلام کی باقی کتابیں بھی منگوا کر ان کا مطالعہ کریں پڑھ کر سنانی شروع کی۔اس کا ایسا اثر آپ پر ہوا کہ آپ کے دل نے قبول کر لیا کہ یہ وہی امام ہیں جن کے آنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔بے شک وہی ہیں اور ان کا کلام گے۔اس واقعہ مذکورہ بالا کے دوسرے روز ہی آپ بنگلور سے مدراس روانہ ہو گئے اور یہاں پہنچ کر آپ نے کتب منگوانے کے لئے خطوط لکھوائے۔آپ بڑے شوق سے ان کتب کا مطالعہ کرتے اور اللہ کا شکر ادا کرتے کہ اس نے عین آسمانی پوری پوری شہادت دے رہا ہے۔آپ خود فرماتے ہیں کہ حضور کی کتاب فتح اسلام کو میں نے سنا اور اندر کا اندر ہی میں باغ باغ ہو گیا کہ آخر خدا نے ایک کو کھڑا ہی کر دیا۔۔۔اب وقت پر اپنے مسیح و مہدی کو بھجوا دیا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے سچ ہی تو گویا عین وقت پر اور وہ بھی اشد ضرورت کے وقت ہی آواز آئی ہے۔سو یا اللہ تو اس آواز کو سچی اور مسلمانوں کے لیے مبارک ثابت فرما، آمین۔یہ میری اندرونی حالت تھی (ضمیمہ آپ بیتی مکتوبات احمد یہ جلد نمبر 5 حصہ اول صفحہ 47,46) عزیز بچو! آپ نے دیکھا کہ حضرت اقدس مسیح موعود کے کلام میں اللہ تعالیٰ نے کتنا اثر رکھا ہے ! حضرت سیٹھ صاحب ہی نہیں بلکہ اور بھی بہت لوگ ایسے تو فرمایا تھا۔وقت تھا وقت مسیحا نہ کسی اور کا وقت میں نہ آتا تو کوئی اور ہی آیا ہوتا دعوت الی اللہ آپ نے اپنے دوست احباب میں حضرت اقدس علیہ السلام کی ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کو پڑھ کر آپ پر ایمان لانے کی صداقت کا تذکرہ زور وشور سے شروع کر دیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک چھوٹی سی توفیق پائی۔چنانچہ حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی اور حضرت صاحبزادہ جماعت مدراس میں تیار ہوگئی۔