حضرت سلمان فارسی ؓ — Page 8
14 13 شرط سنی تو تمام صحابہ کو حکم دیا کہ اپنے اس بھائی کی آزادی کیلئے اس کی مدد کرو۔چنانچہ سب صحابہ نے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق کھجور کے پودے مہیا کئے۔ہم سب نے مل کر گڑھے کھودے اور جب تین سو گڑھے کھود لئے گئے تو ہم نے حضور کو اطلاع کی۔آپ خود تشریف لائے صحابہ آپ کو ایک ایک پودا پکڑاتے گئے اور حضور خود اپنے مبارک ہاتھوں سے ان پودوں کو گڑھوں میں رکھتے گئے۔اس طرح سارے کے سارے پودے حضور نے اپنے ہاتھوں سے لگائے اور میں حلفیہ بیان کرتا ہوں کہ یہ تمام پودے پھر بڑے ہو گئے اور ان میں سے ایک بھی پودا جلا نہیں۔یوں میں اپنے یہودی مالک کی غلامی سے آزاد ہو گیا اور اپنے آقا ومولی حضرت محمد مصطفی ﷺ کی کامل غلامی میں آگیا اور بالآخر وہ منزل آگئی تھی جس کا خواب میں نے نو جوانی میں دیکھا تھا۔آج مجھے اپنا تمام سفر بہت مختصر معلوم ہورہا تھا۔راستے کی تمام پریشانیاں اور دکھ جیسے دھواں بن کر اڑ چکے تھے۔آج میں کامیاب ہو گیا تھا۔میرے خدا نے میرے سچے جذبوں کی قدردانی کرتے ہوئے مجھے اپنے محبوب نبی کے قدموں میں پہنچا دیا تھا۔گو کبھی کبھی کسی ایک لمحہ کیلئے اپنے گھر والوں کی کمی کا احساس بھی ہوتا تھا اور یہ خیال آتا تھا کہ میرا کوئی گھر کوئی عزیز یا رشتہ دار نہیں ہے لیکن یہ سوچ بھی اس وقت ہمیشہ کیلئے ختم ہوگئی جب اول حضور نے مجھے مواخات کرتے ہوئے ابوالدرداء انصاری کا دینی بھائی بنادیا اور بعد میں غزوہ خندق کے موقعہ پر حضور ﷺ نے اس کمزور غلام کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا کہ "سَلَمَانُ مِنَّا اَهْلَ الْبَيْتِ" یعنی سلمان ہمارا ہے اسلئے اسے ہمارے اہل بیت میں شمار کیا جائے۔اپنے ایک کمزور غلام پر ایسی شفقت ایسی محبت۔حضور اکرم ﷺ کے اہل بیت میں شمولیت کی سعادت تو یقیناً ایسی تھی کہ اس پر مجھے ہزاروں محبتیں اور رشتہ داریاں اور قربانیاں بہت چھوٹی معلوم ہونے لگیں اور میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے لگا۔اب میری زندگی ایک نئی ڈگر پر چل نکلی تھی۔میری سب سے بڑی خواہش یتھی کہ زیادہ سے زیادہ وقت رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں گزاروں۔چنانچہ میں بعض دیگر دوستوں کے ساتھ مسجد نبوی سے متصل ایک چبوترے پر موجودرہتا جہاں ہر وقت دینی باتیں ہوتی رہتیں اور جب حضور مسجد میں تشریف لاتے تو ہم آپکی خدمت میں حاضر ہو جاتے۔عربی زبان میں چبوترے کو صفہ کہتے ہیں اسلئے لوگوں نے ہمارا نام "اصحاب صفہ رکھ دیا تھا۔یہ میری زندگی کا بہت قیمتی وقت تھا کیونکہ ایک طرف مجھے اپنے محبوب نبی کا قرب اور محبت حاصل تھی اور دوسری طرف ہر ذمہ داری سے بے نیاز محض دین کی خاطر وقت گزارنے کا موقعہ مل رہا تھا لیکن آنے "" والے وقتوں میں بہت سی ذمہ داریاں اور کام پڑنے والے تھے۔اور ان کا آغاز شوال 5 ہجری میں ہونے والے غزوہ احزاب یا غزوہ خندق سے ہوا جس میں محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے کافی کام کرنے کی توفیق