حضرت سلمان فارسی ؓ — Page 4
6 5 رودادسن کر مجھے اپنے پاس رہنے کی اجازت دے دی۔میں علم ، روحانیت اور تقویٰ میں ترقی کرنے کے لئے گھر بار چھوڑ کر یہاں پردیس میں آن بسا تھا لیکن اس پادری کے ساتھ کچھ عرصہ رہنے کے بعد مجھے اپنی یہ سب محنت اور قربانی رائیگاں جاتی دکھائی دی کیونکہ بظاہر نیک نظر آنے والا یہ پادری در حقیقت انتہائی دنیا پرست اور لالچی تھا۔اس کی دنیا طلبی کی عادتیں دیکھ کر میرا دل شدید متنفر ہو گیا لیکن اب تو واپسی کا بھی کوئی راستہ نہ تھا۔چنانچہ میں انتظار کرتا رہا کہ خدا تعالیٰ میرے لئے کوئی بہتر راستہ نکالے۔ہے پھر یوں ہوا کہ ایک دن وہ پادری مرگیا اور لوگ اس کی تدفین وغیرہ کے لئے انتظام کرنے لگے۔میں چونکہ اس پادری کے ساتھ رہتا تھا اس لئے مجھے معلوم تھا کہ اس نے صدقہ و خیرات کے لئے آنے والے درہم و دینار بہت سے مشکوں میں چھپارکھے ہیں۔اب چونکہ وہ مر چکا تھا اس لئے میں نے لوگوں کو اس خزانے کے بارے میں بتادیا تا کہ وہ اسے غریبوں میں تقسیم کر سکیں۔شہر کے لوگوں نے جب اسقف اعظم کی یہ حقیقت سنی تو بہت طیش میں آئے اور شدید نفرت کا اظہار کیا۔اس شخص کے مرنے کے بعد جو پادری منتخب ہواوہ ایک نیک اور صالح آدمی تھا جسے دنیاداری سے کوئی غرض نہیں تھی۔پس میں اس کے ساتھ محبت کرنے لگا اور ہر وقت اس کی خدمت میں مستعد رہنے لگا۔لیکن اس نیک پادری کی عمر نے بھی وفا نہ کی اور اس کا آخری وقت آپہنچا۔میں نے ان کی خدمت میں عرض کیا کہ اب آپ تو مجھے چھوڑے جاتے ہیں لیکن یہ تو بتائے کہ آپ کے بعد میں بچے دین کی تلاش اور جستجو کے لئے کس کی خدمت میں حاضر ہوں۔یہ سن کر انہوں نے کہا کہ اے میرے عزیز بیٹے دین کی جس بچی تعلیم پر میں عمل کر رہا تھا وہ تو اب معدوم ہوتی چلی جارہی ہے۔لوگوں نے مذہب میں اپنی مرضی سے تبدیلیاں کرلی ہیں اور حقیقی تعلیمات پر کار بند نہیں رہے اور بتایا کہ میری وفات کے بعد تم ایک بزرگ سے موصل میں ملانا اور روحانیت میں ترقی کرنا۔چنانچہ ٹیک بزرگ کی وفات کے بعد میں موصل پہنچا اور اس صالح بزرگ کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔شاید ابھی میری منزل دور تھی اس لئے اسی طرح ایک بزرگ کے بعد دوسرے اور دوسرے کے بعد تیسرے کا پتہ پوچھتا پوچھتا میں موصل کے بعد نصیبین اور پھر عموریہ کے ایک بزرگ کے پاس رہا۔اور بالآخر جب عموریہ کے بزرگ کا آخری وقت آن پہنچا اور میں نے ان سے کسی مرد صالح کا پتہ پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اب اس دین کی بچی تعلیم پر کار بند کوئی شخص میرے علم میں تو نہیں ہے۔ہاں سر زمین عرب میں ایک نبی کے ظہور کا وقت قریب آچکا ہے جو اپنی بعثت کے بعد ایک ایسے مقام کی طرف ہجرت کرے گا جہاں کھجوریں بہت کثرت سے ہونگی اس کی تین علامتیں یا درکھنا اور اس سے اسے پہچان لینا پہلی یہ کہ وہ صدقہ نہیں کھائے گا۔دوسری یہ کہ تحفہ قبول کرے گا اور تیسری یہ کہ اس کے دونوں کندھوں کے درمیان مہر کی طرح کا ایک نشان ہوگا۔