حضرت سلمان فارسی ؓ — Page 3
4 3 گئی اور مجھے لگا کہ یہ مذہب یقیناً ہمارے مذہب سے اچھا اور بہتر ہے میں اپنے سب کام بھلا کر وہیں رک گیا اور وہ تمام دن میں نے انہی عیسائی بزرگوں کے ساتھ گزارا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا اور رات کی تاریکی چھانے لگی۔میں نے عیسائیت کے بارے میں بہت سے سوالات کئے اور اُن لوگوں سے یہ بھی پوچھا کہ آپ کے مذہب کا مرکز اور منبع کہاں پر ہے؟ انہوں نے مجھے بتایا کہ "شام " ہمارا بنیادی مرکز ہے۔نیز انہوں نے مجھے اپنے مذہب کے بارے میں بہت سی باتیں بتا ئیں اور یہ وہ پہلا موقعہ تھا جب میں نے مذہب کی تبدیلی کے بارے میں سوچنا شروع کیا۔رات گئے جب میں گھر واپس پہنچا تو سب کو اپنا منتظر پایا۔ہر طرف مجھے تلاش کرنے کے لئے آدمی روانہ کئے جاچکے تھے اور گھر میں داخل ہوتے ہی باز پرس کی جانے لگی کہ آخر میں غائب کہاں ہو گیا تھا۔میں نے سچ سچ سارا ماجرا سنادیا اور عیسائی بزرگوں کی عبادت کی تعریف بھی کر دی۔یہ سن کر میرے والد نے مجھے سمجھانا شروع کیا اور اپنے مذہب کی خوبیوں کے بارے میں دلائل دینے لگے لیکن میرا دل اب اس مذہب سے اُچاٹ ہو چکا تھا اس لئے میں نے بر ملا اس کا اظہار کر دیا۔یہ خیالات سن کر میرے والد کی تو گویا دنیا ہی اندھیر ہوگئی باوجود مجھ سے بہت زیادہ محبت کے وہ سختی کرنے لگے اور اس معاملے میں کوئی بھی بات سننے سے انکار کر دیا۔لیکن جب انہیں لگا کہ میں مذہب کے بارے میں ان کے خیالات سے اتفاق نہیں رکھتا تو انہوں نے آخری تدبیر کے طور پر مجھے گھر میں قید کر دیا۔میرے یاؤں میں بیڑیاں ڈال دی گئیں اور میری نگرانی کی جانے لگی۔گو میں گھر میں قید کر دیا گیا تھا لیکن میرا دل اب بھی بچے مذہب کی تلاش کے لئے بے چین تھا۔چنانچہ میں نے کسی ذریعے سے انہی عیسائی بزرگوں کو کہلا بھیجا کہ جب بھی شام کی طرف جانے کے لئے کوئی قافلہ روانہ ہونے والا ہو مجھے ضرور بتایا جائے تا کہ میں سچے مذہب کے مرکز تک پہنچ سکوں۔اتفاق سے انہی ایام میں شام کے کچھ تاجر ہمارے شہر میں آئے اور گرجے والوں نے مجھے ان کے بارے میں خبر دی۔ہم نے یہ طے کیا کہ جب یہ تاجر اپنے کام سے فارغ ہو جائیں گے اور واپس روانہ ہوں گے تو میں بھی ان کے ساتھ شامل ہو جاؤں گا اور شام کی طرف چلا جاؤں گا۔چنانچہ جب مجھے اطلاع ملی کہ وہ تاجر واپس روانہ ہونے والے ہیں تو میں نے اپنے پاؤں سے بیڑیاں نکالیں اور چھپتے چھپاتے شام جانے والے تاجروں سے جاملا اور ہمارا سفر شروع ہو گیا۔وہ سفر جس نے بالآخر مجھے میرے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے قدموں تک پہنچانا تھا گو بھی اس منزل تک پہنچنے کے لئے بہت سے کٹھن مراحل میرے منتظر تھے۔کئی دن کے سفر کے بعد ہم شام پہنچ گئے اور میں نے لوگوں سے دریافت کیا کہ یہاں علم اور تقویٰ کے اعتبار سے سب سے بڑا شخص کون ہے؟ لوگوں نے مجھے سب سے بڑے پادری " اسقف اعظم" کی طرف روانہ کر دیا۔جس نے میری