حضرت سلمان فارسی ؓ — Page 2
2 1 بسم الله الرحمن الرحيم سابق الفارس حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرے والد مجھ سے بہت پیار کرتے تھے اتنا زیادہ کہ ایک لمحے کے لئے بھی مجھے اپنی آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دیتے تھے۔حضرت سلمان نے اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے کہا۔مجلس میں مکمل خاموشی تھی اور سب لوگ پورے غور سے حضرت سلمان فارسی کی زندگی کا ماجر اسن رہے تھے۔کیونکہ حضرت رسول کریم ﷺ بھی مجلس میں موجود تھے اور آپ نے تمام حاضرین کو غور سے یہ واقعات سننے کا ارشاد فر مایا تھا۔میں اصفہان کے نزدیک آباد ایک بستی جی کا رہنے والا ایک ایرانی باشندہ ہوں۔میرے والد علاقے کے معروف جاگیردار تھے اور مجھ سے بے انتہا محبت اور پیار کرتے تھے۔یہی وجہ تھی کہ مجھے لڑکیوں کی طرح گھر میں ہی رکھا جاتا تھا اور ایک لمحے کے لئے بھی میرے والد مجھے اپنی نظروں سے دور نہیں ہونے دیتے تھے۔پھر یک مرتبہ یوں ہوا کہ ہمارے گھر میں تعمیر کا کچھ کام شروع ہوا جس میں میرے والد محترم بہت مصروف تھے اور ان کے لئے گھر سے نکلنا ممکن نہ تھا۔دوسری جانب زمینوں کے معاملات دیکھنا بھی ضروری تھا اس لئے میرے والد نے مجھے اپنے پاس بلایا اور کہا کہ آج تم میری جگہ چلے جاؤ لیکن خیال رہے کہ زیادہ دیر مت لگانا کیونکہ تمہاری غیر حاضری مجھے پریشان کر دیتی ہے۔چنانچہ میں اپنے والد کی ہدایت کے مطابق گھر سے زمینوں کی طرف روانہ ہو گیا راستے میں میرا گزر ایک گرجے کے پاس سے ہوا جس میں کچھ عیسائی بزرگ مصروف عبادت تھے اور ان کی دعاؤں اور مناجات کی آواز میں یا ہر بھی سنائی دے رہی تھیں۔میری طبیعت میں تجسس پیدا ہوا اور میں گر جا گھر کے اندر جا پہنچا اور ان لوگوں کی عبادت دیکھنے لگا جو مجھے بہت اچھی لگی اور میں اس میں محو ہو گیا۔دراصل ہمارے خاندان کا آبائی مذہب " آتش پرستی " تھا اور ہم لوگ آگ کی عبادت کیا کرتے تھے۔مجھے ابتداء سے ہی مذہب میں بہت دلچسپی تھی اور میں اپنی مذہبی عبادات میں بھر پور حصہ لیا کرتا تھا یہاں تک کہ مجھے " قطن النار " یعنی آگ کے نگران کی حیثیت حاصل ہو چکی تھی یعنی میں اپنے آتش کدے میں ہمیشہ آگ روشن رکھنے کا ذمہ دار تھا اور بہت خوبی سے یہ کام کیا کرتا تھا۔لیکن یہ بھی ایک حقیقت تھی کہ مجھے ہمیشہ سے ایک اعلیٰ اور اچھے مذہب اور طریق عبادت کی جستجو تھی کیونکہ آگ کی عبادت دل کو کچھ بھائی نہیں تھی۔آج جب گرجے میں بعض لوگوں کو عبادت کرتے دیکھا تو میری رُوح مچل