حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب ؓ

by Other Authors

Page 7 of 16

حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب ؓ — Page 7

11 10 رہے۔آپ روزانہ نماز با جماعت ( بیت ) مبارک قادیان میں ادا کیا کرتے تھے۔آپ کو قرآن سے بہت محبت تھی۔مہمان خانہ میں اپنے کمرے کے باہر بیٹھے رہتے اور قرآن شریف کی تلاوت کرتے رہتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام روزانہ صبح سیر کے لئے جایا کرتے تھے۔شہزادہ صاحب بھی ساتھ ہوتے تھے۔آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بہت محبت تھی اور آپ کا بڑا ادب کرتے تھے۔حضور کے ساتھ جب سیر سے واپس آتے تو اس وقت تک اپنے کپڑوں سے مٹی اور گرد صاف نہیں کرتے تھے جب تک یہ اندازہ نہ کر لیتے کہ حضور نے اندر جا کر اپنے کپڑے جھاڑ لئے ہوں گے۔شہزادہ صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ جہلم کا ایک سفر بھی کیا۔حضور کو ایک مقدمہ میں گواہی کے لئے جنوری ۱۹۰۳ء میں جہلم جانا پڑا تھا۔جہلم کے اسٹیشن پر دس ہزار لوگوں نے حضور کا شاندار استقبال کیا۔حضور تین دن جہلم میں رہے اور تقریباً ڈیڑھ ہزار لوگ بیعت کر کے ان دنوں میں احمدی ہوئے۔۱۷ جنوری کو جہلم میں حضور کچہری میں تشریف لے گئے جہاں اس روز بہت لوگ جمع ہو گئے تھے۔حضور ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے اور شہزادہ صاحب حضور کے قدموں میں بیٹھے ہوئے تھے۔شہزادہ صاحب نے ایک بہت اچھا سوال کیا کہ حضور! میں نے ہمیشہ آپ کی سچائی سورج کی طرح روشن دیکھی ہے مجھے اس میں کوئی شک نہیں کیا مجھے ثواب ہوگا۔حضور نے بھی کتنا پیارا جواب دیا۔فرمایا: "آپ نے اس وقت دیکھا جب کوئی نہ دیکھ سکتا تھا اور آپ نے اپنے آپ کو خطرات میں ڈال دیا اور ہر دکھ اور مصیبت کو اس راہ میں اٹھانے کے لئے تیار ہو گئے اس لئے 66 اللہ تعالیٰ آپ کے اجر کو ضائع نہیں کرے گا۔“ اسی سفر کا ہی واقعہ ہے کہ ایک رات شہزادہ صاحب اپنے ساتھیوں کے پاس آئے اور کہا ہمیں بار بار الہام ہوتا ہے سر دے دو۔سر دے دو۔اس سفر سے واپسی پر شہزادہ صاحب چند دن قادیان میں رہے اور پھر واپس وطن روانہ ہوئے۔حضور علیہ السلام نے آپ کے بارہ میں کہا ہے کہ اگر چہ ان کو بہت زیادہ میرے پاس رہنے کا موقع نہیں ملالیکن جتنا عرصہ بھی وہ یہاں رہے انہوں نے مجھ سے بہت زیادہ فائدہ اٹھایا۔شہزادہ صاحب کو حضرت حافظ مولوی نورالدین صاحب (خلیفتہ اسیح الاول ) ( اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو) سے بڑی محبت تھی اور ان کا بھی بہت ادب کرتے تھے۔جب آپ واپس وطن جانے لگے تو حضرت مولوی صاحب سے عرض کیا کہ مجھے بخاری کی کوئی حدیث پڑھا دیں اور بہت کہہ کر بخاری کے دو تین صفحے آپ سے پڑھے اور اپنے شاگردوں سے بعد میں کہا کہ میں نے یہ صفحے اس لئے پڑھے ہیں تا کہ حضرت مولوی صاحب کے شاگردوں میں شامل ہو جاؤں کیونکہ حضرت صاحب کے بعد یہ پہلے خلیفہ ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے واپسی کی اجازت لے کر جب شہزادہ صاحب جانے لگے تو خود حضور اور کچھ اور لوگ بٹالہ کی نہر تک پیدل آپ کو چھوڑنے گئے جو قادیان سے ڈیڑھ میل کے فاصلہ پر ہے۔جب شہزادہ صاحب کی رخصت کا وقت آیا تو آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدموں میں گر پڑے اور دونوں ہاتھوں سے حضور کے پاؤں پکڑ لئے اور عرض کیا کہ میرے لئے دعا کریں۔حضرت صاحب نے فرمایا اچھا آپکے لئے دعا کرتا ہوں میرے پاؤں چھوڑ دیں۔شہزادہ صاحب جانے کے غم اور محبت کی وجہ سے پاؤں نہیں چھوڑتے تھے۔