حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب ؓ — Page 5
7 6 سارے ملک میں سے شہزادہ صاحب کو چنا اور ۳/اکتوبر ۱۹۰۲ کو شہزادہ صاحب نے بادشاہ کو شاہی تاج پہنایا۔شہزادہ صاحب سچ بات کہنے والے اور نڈر انسان تھے۔جب امیر حبیب اللہ خاں بادشاہ بن گیا تو تمام لوگوں نے بادشاہ کی بیعت کی۔بادشاہ نے شہزادہ صاحب کو بھی بلا بھیجا کہ وہ بھی بیعت کریں تو آپ نے بڑی بہادری سے بادشاہ کو کہا۔میں اس شرط پر بیعت کروں گا کہ آپ شریعت ( یعنی اسلام کے حکموں) کے خلاف کوئی کام نہیں کریں گے۔۔۔۔۔آپ اتنے دلیر انسان تھے کہ بادشاہ کے سامنے بھی سچی بات کہنے سے نہیں رکے۔پیارے بچو! اب ہم تمہیں بتائیں گے کہ شہزادہ صاحب احمدی کس طرح ہوئے؟۔۔۔یہ تو ہم بتا چکے ہیں کہ شہزادہ صاحب بہت بڑے اور مشہور عالم تھے۔آپ نے حدیثوں میں یہ بات پڑھی تھی کہ آخری زمانہ میں جب مسلمان گمراہ ہو جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی ہدایت کے لئے مہدی علیہ السلام کو بھیجے گا۔آپ نے زمانہ کے حالات اور نشانیوں سے اندازہ کر لیا تھا کہ وہ یہی زمانہ ہے۔آپ اس بات کا ذکر اپنے درسوں میں اور تقریروں میں بھی کیا کرتے تھے۔آپ بڑے بزرگ انسان تھے اور اکثر آپ کو سچی خوا میں بھی آتی تھیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو خواب میں بھی کئی دفعہ بتایا تھا کہ امام مہدی آ گیا ہے۔اس پر آپ نے دعا اور کوشش سے مہدی علیہ السلام کی تلاش شروع کی۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کر لی اور جلد ہی آپ کو امام مہدی کا پتہ چل گیا۔یہ واقعہ بھی بہت دلچسپ ہے۔۱۸۹۳ء کی بات ہے شہزادہ صاحب ہندوستان اور افغانستان کی سرحدوں کا فیصلہ کرنے والے افسروں میں افغانستان کی طرف سے سرکاری نمائندہ تھے۔دونوں ملکوں کے افسر دن کے وقت تو اپنا اپنا کام کرتے اور شام کے وقت ایک جگہ خیموں میں اکٹھے ہو کر ایک دوسرے کی دعوت کرتے اور بات چیت ہوتی۔ہندوستان کے وفد کے ساتھ پشاور کے ایک احمدی کلرک سید چن بادشاہ صاحب بھی تھے۔ایک دن باتوں باتوں میں انہوں نے ذکر کیا کہ قادیان میں حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام نے مسیح موعود اور مہدی ہونے کا دعویٰ کیا۔شہزادہ صاحب تو پہلے ہی تلاش میں تھے۔آپ نے اس بارے میں کئی سوال چن بادشاہ صاحب سے کئے اور ان سے کافی معلومات حاصل کیں۔یہ شوق دیکھ کر چن بادشاہ صاحب نے شہزادہ صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب آئینہ کمالات اسلام پڑھنے کیلئے دی۔شہزادہ صاحب بہت خوش ہوئے اور کچھ رقم چن بادشاہ صاحب کو انعام بھی دی۔شہزادہ صاحب خود بتاتے تھے کہ میں نے رات کو کتاب پڑھنی شروع کی۔ساری رات سونہ سکا اور صبح تک کتاب کا کافی حصہ پڑھ لیا۔یہ کتاب پڑھ کر میرے دل نے حضرت مسیح موعود کے دعوی کو قبول کر لیا اور مجھے بہت خوشی ہوئی۔آپ نے یہ کتاب اپنے خاص آدمیوں کو سنا کر فرمایا یہ وہی شخص ہے جس کا دنیا انتظار کر رہی تھی اب وہ آ گیا ہے۔اور میں نے ہرطرف دیکھا، زمانہ کو ایک اصلاح کرنے والے شخص کی ضرورت تھی لیکن کوئی نظر نہیں آتا تھا لیکن اس کتاب کے پڑھنے سے معلوم ہوا ہے کہ خدا نے اسے بھیج دیا ہے۔یہ وہی ہے جس کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا تھا کہ جہاں بھی آئے اس کی طرف دوڑو اور اسے میر اسلام پہنچاؤ۔اس لئے میں زندہ رہوں یا مر جاؤں جو میری بات مانتا ہے اس کو میں وصیت کرتا ہوں کہ وہ ضرور اس شخص کے پاس جائے اور اس کو مان لے۔شہزادہ صاحب جب واپس کا بل گئے تو اپنے خاص شاگردوں کو قادیان میں حالات دیکھنے کے لئے بھجوانا شروع کیا۔دسمبر ۱۹۰۰ ء میں شہزادہ صاحب نے مولوی عبدالرحمن صاحب کو اپنے کچھ اور شاگردوں کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس اپنی بیعت