حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب ؓ

by Other Authors

Page 14 of 16

حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب ؓ — Page 14

25 24 اور اپنے عقیدہ میں تبدیلی نہیں کروں گی۔آپ کے دو بیٹے سید محمد سعید صاحب اور سید محمد عمر صاحب ان تکلیفوں کی وجہ سے افغانستان میں ہی ( وفات پاگئے۔بالآخر شہزادہ صاحب کے خاندان کا لٹا پٹا قافلہ ۲ رفروری ۱۹۲۶ ء کو افغانستان سے ہجرت کر کے بنوں آ گیا۔شہزادہ صاحب کا مزار کابل میں جس جگہ پر شہزادہ صاحب کو ( راہ مولیٰ میں قربان ) کیا گیا تھا تین دن تک حکومت کی طرف سے وہاں پہرہ رہا۔شہزادہ صاحب کی شہادت کے کچھ عرصہ بعد آپ کے شاگر د حضرت احمد نور صاحب کا بلی کو کابل کے تاجروں سے پتہ چلا کہ وہ وفات پاگئے ہیں تو حضرت احمد نور صاحب نے ارادہ کیا کہ خواہ میری جان چلی جائے شہزادہ صاحب کی نعش ضرور پتھروں سے نکال کر دفن کروں گا۔چالیس دن بعد کا بل کے احمدیوں کی مدد سے شہزادہ صاحب کی میت نکال کر قریب ہی ایک مقبرہ میں دفن کر دی۔ایک سال بعد شہزادہ صاحب کے ایک اور شاگر د ملا میر صاحب نے ارادہ کیا کہ اپنے استاد کی نعش لا کر اپنے گاؤں میں دفن کروں گا۔چنانچہ وہ کابل جا کر شہزادہ صاحب کا تابوت نکالنے میں کامیاب ہو گئے اور خچر پر لاد کر شہزادہ صاحب کے گاؤں سید گاہ میں لے آئے اور ایک نامعلوم سی قبر بنادی۔اتفاق کی بات ہے کہ ان دنوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رفیق خان عجب خاں میرام شاہ وزیرستان میں نائب تحصیل دار تھے۔انہیں جب اپنے بھائی کی قبر کا پتہ چلا تو انہوں نے محبت میں اس پر ایک خوبصورت مقبرہ بنوا دیا آہستہ آہستہ خوست میں شہزادہ صاحب کے اس مزار کی شہرت ہو گئی اور آپ کے مرید یہاں زیادہ تعداد میں آنے لگے۔یہ اطلاع جب سردار نصر اللہ خاں کو ہوئی تو جنوری ۱۹۱۰ء میں اس کے حکم سے شہزادہ صاحب کا تابوت نکال کر کسی نامعلوم جگہ پر دفن کر دیا گیا۔حضرت شہزادہ صاحب کا کتبہ بہشتی مقبرہ قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بطور یادگار لگا دیا تھا۔شہزادہ صاحب کی شہادت پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا: کل کا بل کی سرزمین دیکھ لے گی کہ یہ خون کیسے کیسے کیسے پھل لائے گا۔یہ خون کبھی ضائع نہیں جائے گا۔آپ نے فرمایا: کابل کی زمین ، جہاں اتنا بڑا ظلم کیا گیا ہے، خدا کی نظر سے گر گئی ہے۔شہزادہ صاحب نے بھی شہادت کے وقت پیشگوئی کی تھی کہ ان کے قتل کے بعد ملک پر سخت تباہی آئے گی۔چنانچہ جس دن شہزادہ صاحب راہ مولیٰ میں قربان ہوئے اسی رات نو بجے اچانک ایک زبر دست طوفان، آندھی اور جھکڑ کا آیا جو آدھ گھنٹہ تک جاری رہا۔شہادت سے اگلے دن ۱۵ جولائی ۱۹۰۳ کو ہیضہ کی خوفناک وبا نے شہر کابل اور اردگرد کے علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا حالانکہ عام اندازے کے مطابق ابھی چار سال تک اس بیماری کے آنے کا کوئی امکان نہ تھا۔روزانہ ہیضہ کی وبا سے تین چار سو آدمی کابل اور اس کے اردگرد مرنے لگے اور بادشاہ کے بھائی سردار نصر اللہ خاں کی بیوی بھی اسی سے ہلاک ہوئی جس کے غم سے سردار نصر اللہ خاں قریباً پاگل ہو گیا، ہر وقت ڈرا سہما ر ہنے لگا۔پھر امان اللہ خاں جب افغانستان کا بادشاہ بنا تو اس کے حکم سے سردار نصر اللہ خاں کو قید کر کے کابل لایا گیا اور اسی قلعے میں نظر بند کیا گیا جس میں شہزادہ صاحب کو رکھا گیا تھا۔اس صدمہ سے سردار نصر اللہ خاں کا دماغ خراب ہو گیا اور قید کے دوران ہی گلا گھونٹ کر اسے قتل کر دیا گیا۔بادشاہ حبیب اللہ خاں بھی خدا کے عذاب سے نہ بچ سکا اور ۲۰ فروری ۱۹۱۹ ء کو ایک آدمی نے اسے قتل کر دیا اور وہ مولوی جنہوں نے شہزادہ صاحب کے خلاف فتویٰ دیا تھاوہ بھی