حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 44
88 87 أَهْلِ بَيْتِهِ وَقِرَاءةُ الْقُرْآنِ فَإِنَّ حَمَلَةِ الْقُرْآنِ فِي ظِلِ اللَّهِ يَوْم لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ مَعَ انْبِيَاءِ هِ وَاَصْفِيَاءِ ؟ تم میں سے سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھتا اور سکھا تا ہے الجامع الصغير للسيوطى جز اول (۱۸) اپنی اولاد کی نیکی میں مدد کرو کہ اپنی اولاد کی ایسے رنگ میں تربیت کرو کہ یہ تین خوبیاں بطورِ عادت و خصلت کے ان میں راسخ ہو جائیں: پڑھنا -1 اپنے نبی کی محبت 2 اہل بیت کی محبت 3- قرآن کریم کا کیونکہ قرآن کریم کے حاملین اس روز اللہ تعالیٰ کے انبیاء اصفیاء کے ساتھ اللہ کے سائے کے نیچے ہوں گے جس روز اس کے سائے کے سوا کہیں بھی کوئی سایہ نہیں ہوگا۔ان احادیث میں تلاوت قرآن کریم اور اس کی تعلیم پر عمل کرنے کی سخت تاکید کی گئی ہے اور یہی آج کامیابی کی کلید ہے۔پس بچپن سے ہی بچے کو اسلامی شعار کی تربیت دے کر راسخ کر دینا چاہئے کیونکہ بچپن کی عمر حافظہ کی عمر ہوتی ہے اور اس وقت کا سیکھا ا ہوا ساری عمر کام آتا رہتا ہے۔بچپن کا سیکھا ہوا پتھر پر نقش کی طرح ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔مَثَلُ الَّذِي يَتَعَلَّمُ الْعِلْمَ فِي صِغَرِهِ كَا النَّقْشِ عَلَى الْحَجُرِ (الجامع الصغير للسيوطى جلد 2-3 صفحه 153 یعنی بچپن میں علم سیکھنے والے کی مثال پتھر پر نقش کی طرح ہے۔پھر فرمایا:۔خير كم من تعلم القرآن و علمه (کتاب الایمان جلد اوّل صفحہ 143-144) پھر میرے محسن آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أحسنوا اولادكم على البر (الجامع الصغیرا بن سیوطی ابن ماجہ ) یعنی نیکی کے کاموں میں اپنے بچوں کی مدد کیا کرو۔باپ کی دُعا بچے کے حق میں قبول ہوتی ہے پھر آپ نے مزید فرمایا: دُعَاءُ الوَالِدِ لِوَلَدِهِ كَدُ عَاءِ النَّبِي لِأُمَّتِهِ الجامع الصغیر ابن سیوطی ابن ماجہ ) یعنی باپ کی دُعا اپنے بچے کے حق میں ایسی ہی مقبولیت کا درجہ رکھتی ہے جیسے نبی کی دُعا اپنی اُمت کے لئے۔اللہ تعالیٰ کی ہزار ہزار رحمتیں اور برکتیں ہوں ہمارے پیارے آقائے دو جہان صلی اللہ علیہ وسلم پر جہاں یہ فرمایا کہ نیک کاموں میں اپنے بچوں کی حوصلہ افزائی کرو اور ان سے تعاون کرو۔وہاں مزید یہ بھی فرمایا کہ والدین اپنے بچوں کو اپنی دُعاؤں میں کبھی فراموش نہ رکھیں اور ان کی بہتری کے لئے دعائیں بھی کرتے رہیں کیونکہ ان کی دُعائیں بے حد قبولیت کا درجہ رکھتی ہیں۔اپنی اولاد کا واجبی احترام کرو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس سے بھی بڑھ کر فرمایا: اَكْرِ مُوْ اَوْلَادَ كُمْ فَإِنَّ اكْرَمُ الْاَوْلَادِ سِتْرَ مِنَ النَّارِ