حضرت رسول کریم ؐ اور بچے

by Other Authors

Page 42 of 54

حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 42

84 83 عَلَيْهَا وَ هُمْ أَبْناءَ عِشْرِينَ وَفَةٍ قُوْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ (ابو داؤد) یعنی جب بچہ سات سال کا ہو جائے تو اس کو نماز کا حکم دو اگر تین سال کی کوشش کے بعد بھی نماز نہ پڑھے تو اس کو سرزنش کی جائے اور دس سال کی عمر میں اس کو علیحدہ سلائیں۔نماز برائیوں سے روکتی ہے إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَر (عنکبوت : 46) ترجمہ: یعنی نماز برائیوں اور فحشاء سے بچانے کا سامان مہیا کرتی ہے۔اور بچے کو بدی سے بچا کر دین کی طرف راغب کرنے اور دینی تربیت میں اس کی مددگار بنتی ہے اگر بچہ بچپن میں ہی نماز کا عادی بن جائے اور خدا تعالیٰ سے رشتہ جوڑے تو وہ ضائع نہیں ہوتا۔نیز اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ الصَّلوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَبَا مَّوْقُوتًا (النساء : 104 ) نماز اپنے مقررہ وقتوں میں مسلمانوں پر فرض ہے“ ہمارے پیارے آقا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔نماز وقت پر باجماعت ادا کرنا اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے۔نیز فرمایا۔” میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے“ کامل نماز کامل نماز وہ ہے جس میں نماز پڑھنے والا نیت کرے کہ میں خدا کو دیکھ رہا ہوں یا کم از کم یہ کہ خدا تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے۔اکیلے نماز پڑھنے کی نسبت باجماعت نماز ادا کرنے سے ستائیس گنا زیادہ ثواب ہوتا ہے۔نماز کے لئے مسجد کی طرف چلنے سے ہر قدم پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔اور ایک بدی مٹادی جاتی ہے۔إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ العبد الصلوة“ قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا۔اللہ تعالیٰ سب مسلمان بچوں کو ہمیشہ وقت پر با جماعت نمازیں ادا کر کے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی حاصل کرنے کی توفیق عطا فرماتا رہے۔آمین ثم آمین عورتوں سے عہد بیعت اولاد کو قتل نہیں کریں گی اولاد کی تربیت میں ماں کا زیادہ دخل ہوتا ہے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں سے بیعت لیتے وقت یہ عہد بھی لیتے تھے کہ وہ اولاد کو قتل نہیں کریں گی جس کا یہ مفہوم بھی ہے کہ وہ اپنی اولاد کی احسن طریق پر تربیت کریں گی اور ان کے اخلاق و عادات کو دینی شعار کے مطابق ڈھالیں گی۔عورتیں کس حال میں روزہ نہ رکھیں علاوہ ازیں بچوں سے ہمدردی اور خیر خواہی کے پیش نظر ہمارے من مشفق آقا نے فرمایا حاملہ اور مرضعہ روزے نہ رکھیں کیونکہ اس سے بچے کی صحت پر اثر پڑتا ہے۔طلاق اور خلع ناپسندیدہ افعال ہیں P نیز آپ نے طلاق اور خلع کو اَبغَضُ الْحَلَال (مشکوۃ، ابو داؤد) (حلال چیزوں میں سب سے ناپسندیدہ ) اس لئے قرار دیا کہ اس سے بچوں کی