حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 26
52 51 کام سے بھیجا تھا اس لئے دیر ہوگئی چونکہ آپ ابھی بچے تھے۔والدہ نے، اس خیال سے کہ کہیں یہ بہانہ ہی نہ ہو کہا کہ کس کام سے بھیجا تھا۔حضرت انس نے جواب دیا کہ ایک خفیہ بات تھی جو افسوس ہے کہ میں آپ کو بتا نہیں سکتا۔والدہ کی سعادت دیکھئے کہ اُنہوں نے نہ صرف یہ کہ خود دریافت کرنے پر اصرار نہیں کیا بلکہ تاکید کی کہ کسی اور سے بھی اس بات کا ذکر ہرگز نہ کرنا۔( حديقة الصالحين جلد 1 ص 77 مسلم کتاب الفضائل حدیث 323 ،مستدرک حاکم جلد 3) پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس عرفان اور بچے * رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس عرفان میں ایک اچھا خاصہ حصہ بچوں کا بھی ہوتا تھا۔جو رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و شفقت کے نتیجے میں کھنچے چلے آتے تھے۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو غور سے سُنتے تھے۔دُنیا کے معلّم یہی بچے بڑے ہوکر دُنیا کے معلم بن گئے۔اور دُنیا کے اطراف جوانب میں اشاعت نور مصطفوی کا باعث بنے۔ان میں ایک حضرت علی بھی تھے۔آپ کو بچوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔وہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رہتا تھا جیسے اونٹنی کا بچہ اونٹنی کے پیچھے رہتا ہے۔یہ کشش اور یہ محبت اور یہ محسن سلوک نہ کسی باپ میں نہ کسی ماں میں اور نہ ہی کسی نبی میں ہے۔اگر ہے تو صرف اور صرف ہمارے پیارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے۔(مسند جلد 5 صفحہ 135) یوں بچوں کی دینی جرات اور بہادری قوت ایمانی اور کمزور بچہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ 10 سال کے تھے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے۔ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خاندان کو تبلیغ کرنے کے لئے ایک دعوت کا اہتمام کیا۔بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دعوت اسلام دی اور فرمایا کہ میں تمہارے سامنے دین و دُنیا کی بہترین نعمت پیش کرتا ہوں۔کون ہے جو میرا مددگار و معاون ہوگا۔سب لوگ خاموش رہے مگر ایک چھوٹے دُبلے پتلے بچے یعنی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اُٹھ کر فرمایا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دست راست بنوں گا۔آپ نے فرمایا بیٹھ جاؤ۔دوسری دفعہ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حاضرین کو مخاطب کر کے یہی دریافت فرمایا۔پھر سب خاموش رہے اور حضرت علیؓ نے اُٹھ کر کہا میں آپ کا ہر طرح سے مدد گار اور معاون رہوں گا۔آپ نے فرمایا بیٹھ جاؤ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر تیسری دفعہ یہی سوال دھرایا مگر تینوں دفعہ کوئی نہ بولا۔مگر حضرت علی نے تینوں دفعہ کھڑے ہوکر آپ کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا اور اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کی کہ خاندان کے سب بڑے بڑے لوگ اس بار کو اُٹھانے سے انکار کر رہے ہیں۔دشمنوں کی مجلس میں جاکر قرآن سُنا دیا (طبری صفحه 1172 ) ایک روز مسلمانوں نے مشورہ کیا کہ قریش کو قرآن کریم سنایا جائے لیکن یہ کام اس قدر مشکل تھا کہ اس کو سر انجام دینا سخت خطرناک تھا مگر عبداللہ بن مسعود فوراً اس کام کیلئے تیار ہو گئے۔انہوں نے قرآن حفظ کیا ہوا