حضرت رسول کریم ؐ اور بچے

by Other Authors

Page 23 of 54

حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 23

46 45 شوق اسقدر تھا کہ آپ کے علم و کمال کو دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔" انا مدينة و على با بها۔یعنی ”میں علم کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں“ نیز فرمایا علی مجھے میں ہے اور میں علی میں ہوں“ کمسن کا علم وفضل حضرت عمر بن سعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اس قدر کمسن تھے کہ کسی غزوہ میں شرکت نہ کر سکے۔تاہم صحابہ میں بہ لحاظ علم وفضل ایسا بلند مرتبہ حاصل کرلیا تھا کہ حضرت عمر فرمایا کرتے تھے کہ کاش مجھے عمر جیسے چند آدمی مل جاتے تو امورِ خلافت میں ان سے بہت مدد ملتی۔نجران کا حاکم (سیر انصار جلد 8 صفحہ 120) حضرت عمر بن حزم نے کمسنی میں اسلام قبول کیا تھالیکن علمی قابلیت اور اصابت رائے قوتِ فیصلہ کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ 20 سال کی عمر میں ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو نجران کا حاکم مقرر کر کے بھیجا۔بچوں کی تعلیم و تربیت کا خیال تو سیر انصار جلد 2 صفحہ 119) قیدی اپنی رہائی کے لئے بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں باقاعدہ اسکول تو نہیں ہوتے تھے لیکن ہمارے پیارے آقا کو بچوں کی تعلیم و تربیت کا بہت خیال رہتا تھا جب جنگِ بدر میں دشمن قیدی بن کر مدینہ آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن قیدیوں کے لئے جو پڑھے لکھے تھے صرف یہ فدیہ مقرر کیا کہ جو قیدی رہا ہونا چاہتے ہیں وہ مدینہ کے دس۔دس مسلمان بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں۔تو آزاد کر دئے جائیں گے۔چنانچہ زید بن ثابت نے، جن سے بعد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وحی بھی لکھواتے تھے۔اسی طرح (ہمارے نبی پیارے نبی 17) لکھنا پڑھنا سیکھا تھا۔احادیث کے حافظ بچے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے بچوں کو احادیث یاد کرنے میں بھی بڑی مہارت تھی۔ان بچوں نے اپنے حافظہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کثیر تعداد میں احادیث یاد کیں۔(اسدالغابہ جلد 1 صفحہ 71) (1 حضرت ابو سعید خدری کی عمر گو آپ کے زمانے میں بہت چھوٹی تھی۔تاہم آپ سے 1170 احادیث مروی تھیں جن سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ آپ حصولِ علم کا کس قدر شوق رکھتے تھے۔(2 (اسدالغابہ جلد 1 صفحہ 71) حضرت سہل بن سعد کی عمر آپ کے زمانے میں بہت چھوٹی تھی۔تاہم تحصیل علم کے شوق کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ آپ سے 1188 احادیث مروی ہیں۔(3 حضرت عبداللہ بن عباس کی عمر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت صرف چودہ پندرہ سال تھی مگر پھر بھی علمی جستجو اسقدر بڑھی ہوئی تھی کہ آپ کی مرویات کی تعداد 2200 ہے۔