حضرت رسول کریم ؐ اور بچے

by Other Authors

Page 22 of 54

حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 22

44 43 (مسند جلد 4 صفحہ 269) حافظ قرآن بچہ سات آٹھ سال کی عمر میں امامت کراتا اور منبر پر کھڑا ہوکر خطبہ دیتا حضرت عامر بن سلمہ فرماتے ہیں کہ ہم مدینہ کے راستے میں رہتے تھے جو لوگ وہاں آتے وہ بتاتے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے اور یہ آیتیں نازل ہوتی ہیں۔چنانچہ میں وہ آیتیں یاد کر لیتا اور مسلمان ہونے سے پہلے ہی مجھے بہت سارا قرآن یاد ہو گیا تھا۔جب مکہ فتح ہوا تو ہم سب مسلمان ہو گئے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں احکام دین سکھائے۔نماز سکھائی۔جماعت کا طریقہ سمجھایا اور فرمایا تم میں سے جسے زیادہ قرآن یاد ہو وہ امامت کے لئے افضل ہے۔چنانچہ میری قوم نے تلاش شروع کی تو مجھ سے زیادہ حافظ قرآن کوئی نہ نکلا۔اور مجھے ہی امام بنایا گیا۔میں نماز پڑھاتا اور منبر پر کھڑا ہو کر خطبہ دیتا۔اس وقت میری عمر سات آٹھ سال تھی۔(مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے ص 79 ، ابوداؤد ، کتاب الصلوۃ) سو سے زیادہ حافظ قرآن مسلم نوجوانوں کو قرآن سیکھنے کا اسقدر شوق تھا کہ ایک دفعہ کسی خاص غرض کے تحت حضرت عمر نے حفاظ کی مردم شماری کرائی تو معلوم ہوا کہ فوج کے ایک دستے میں سو (100) سے زیادہ حفاظ تھے۔(فضائل القرآن ، مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے ص 77) ننھا بچہ علم وفضل کی وجہ سے اُستاد بن گیا حضرت عبد اللہ بن عباس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد بھائی تھے۔اور حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں بہت کمسن تھے۔مگر علمی پایہ اتنا بلند تھا کہ حضرت عمرؓ اکثر پیچیدہ اور مشکل مسائل ان سے حل کراتے تھے۔وہ اپنی کم عمری کی وجہ سے مجلس میں بات کرتے جھجکتے تو حضرت عمر ان کی ہمت بندھاتے اور فرماتے کہ علم عمر کی کمی یا زیادتی پر منحصر نہیں۔آپ کو شیوخ بدر کے ساتھ بٹھاتے حضرت عبداللہ بن عباس کا علمی پایہ بھی بہت بلند تھا۔آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کے اصحاب کے پاس جاتے اور ان سے حضور کی باتیں سنتے تھے۔جب آپ کو معلوم ہوتا کہ فلاں شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث سنی ہے تو فوراً اس کے مکان پر پہنچتے اور اس سے حدیث سنتے۔اور اس طرح آپ نے عرب کے کونے کونے میں پھر کر ان جواہر پاروں کو جمع کیا۔جو اطراف ملک میں مختلف لوگوں کے پاس منتشر صورت میں موجود تھے۔چنانچہ اس محنت کا نتیجہ یہ تھا کہ صحابہ کرام میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی قول و فعل پر اختلاف ہوتا تو حضرت عبداللہ بن عباس کی طرف رجوع کرتے تھے۔جس طرح آپ نے کوشش اور محنت کے ساتھ علم حاصل کیا تھا اسی طرح اس کی اشاعت بھی کرتے چنانچہ ان کا حلقہ درس بہت وسیع تھا اور سینکڑوں طلباء روزانہ ان سے اکتساب علم کرتے۔آپ کی مرویات کی تعداد 2260 ہے۔(مستدرک حاکم جلد ۲، فضائل ابن عباس جلد 3) کا گھر اور اسکا دروازہ حضرت علیؓ نے کمسنی میں ہی اسلام قبول کیا تھا۔تاہم تحصیل علم کا