حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 21
42 41 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے مسلمان بچوں کے سنہری کارنامے بچپن کا زمانہ ایک سنہری زمانہ ہوتا ہے۔اس عمر میں حافظہ بھی بہت تیز ہوتا ہے چنانچہ جب ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے بچوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان بچوں کے سنہری کارناموں کے واقعات پڑھ کر بہت حیرت ہوتی ہے۔اس زمانے کے بچوں کو اللہ اور اس کے رسول سے بے حد محبت تھی وہ بے حد ذکی اور فہیم تھے اور قرآنِ کریم کی تعلیم کا اس قدر شوق تھا کی بچپن میں ہی حفظ کر لیتے تھے اور تحصیل علم کا بھی بے حد شوق رکھتے تھے۔چند واقعات مسلم بچوں کے درج ذیل ہیں۔علم القرآن کا حریص بچہ حضرت عثمان بن العاص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانے میں اسلام لائے تھے اور اس وقت آپ کی عمر بہت چھوٹی تھی مگر علمی پایہ اس قدر زیادہ تھا کہ حضرت عمرؓ فرمایا کرتے تھے کہ یہ لڑکا تفقہ فی الاسلام اور علم القرآن کا بڑا حریص ہے۔کم سنی کے باوجود علمی امتیاز کے باعث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو بنی ثقیف کا امام مقرر فرمایا تھا۔سب سے چھوٹا نقیب (تہذیب الناس 260) اس طرح حضرت سعد بن ابی زرارہ کو آپ نے بوجہ ان کی علمیت کے بنو نجار کا نقیب مقرر فرمایا تھا آپ سب نقیبوں سے چھوٹے تھے (اسد الغابہ جلد اوّل صفحہ 71) حضور نے بچوں سے قرآن سُنا تو بہت خوش ہوئے حضرت زید بن ثابت نے گیارہ سال کی عمر میں اسلام قبول کیا تھا اور اسی وقت قرآن کریم پڑھنا شروع کر دیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو آپ سترہ (17) سورتیں حفظ کر چکے تھے۔عرب کے لوگوں کے لئے یہ اچنبا بات تھی اس لئے لوگ آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آئے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے قرآن سُنا تو بہت خوش ہوئے۔آپ بہت ہی ذکی ذہین اور سمجھدار تھے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس خطوط سریانی اور عبرانی میں آتے ہیں جن کا اظہار کسی پر مناسب نہیں ہوتا۔اور یہ زبانیں سوائے یہودیوں کے اور کوئی نہیں جانتا۔تم یہ زبانیں سیکھ لو۔چنانچہ آپ سیکھنے لگ گئے اور اس قدر شوق اور محنت سے کام کیا کہ پندرہ ہی روز میں خطوط پڑھنے اور ان کا جواب لکھنے پر قادر ہو گئے۔(مسند احمد جلد 5 صفحہ 186) کمسنی میں قرآن حفظ کرلیا حضرت مجمع بن ماریہ نے بچپن ہی میں سارا قرآن حفظ کرلیا تھا۔اس زمانے کے تمدن کے لحاظ سے بہت بڑی بات تھی۔اور اپنے زہد و تقویٰ کے وجہ سے اپنی قوم میں امام تھے۔(اسدالغابہ جلد 4 صفحہ 303) صحابہ سے زیادہ واقفیت حضرت نعمان منذر کی عمر آٹھ سال تھی لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات کا بغور مطالعہ کرتے رہتے اور انہیں یاد رکھتے تھے۔منبر کے بالکل قریب بیٹھ کر وعظ سنتے تھے۔ایک مرتبہ دعویٰ کیا کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق اکثر صحابہ سے زیادہ واقفیت رکھتا ہوں۔