حضرت رسول کریم ؐ اور بچے

by Other Authors

Page 51 of 54

حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 51

102 101 پس آج کے اس پر آشوب دور میں تمام دنیا میں بے چینی اور خوف و ہراس اور فساد اور لڑائیاں پھیلی ہوئی ہیں اور دنیا امن کی متلاشی ہے۔ہم ان کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ اگر چاہتے ہو کہ دنیا میں امن قائم ہو ایک دوسرے کا احترام دلوں میں قائم ہو اور عزت و وقار قائم ہو۔تو یہ صرف اور صرف ہمارے پیارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری اور حسین تعلیم پر عمل کر کے ہی حاصل ہوسکتا ہے۔خدا تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپنے پیارے آقا کی پیاری اور حسین تعلیم پر صدق دل سے عمل کریں۔آمین۔۔۔اس میں ہماری بہتری ہے۔اور اس میں ہماری اولادوں کی بھی بہتری ہے اور اس میں ہماری جماعت کی اور قوموں کی بھلائی ہے۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔آمین ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکایا ہم نے نے کوئی دیں دین محمد سا نہ پایا ہم آؤ لو گو کہ یہیں نورِ خدا پاؤ گے لو تمہیں طور تسلی کا بتایا ہم نے ( در شین) اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ َو عَلَى الِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ اَللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّ عَلَى الِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيد خاکسار امتہ الہادی از کراچی۔پاکستان مرتبہ کا تعارف محترمہ امتہ الہادی اہلیہ محمد رشید الدین صاحب بنت حضرت مولنا ابوالبشارت عبدالغفور صاحب (حضرت رفیق مسیح موعود ، مربی سلسلہ جید عالم و مناظر 29 جولائی 1928ء کو قادیان میں پیدا ہوئیں آپ کے دادا حضرت میاں فضل محمد صاحب ہرسیاں والے اور دادی حضرت برکت بی بی صاحبہ اسی طرح آپ کے نانا حضرت مولوی فضل الدین صاحب اور نانی حضرت مہتاب بی بی صاحبہ بھی رفقائے حضرت مسیح موعود تھے۔قادیان میں نصرت گرلز ہائی سکول اور جامعہ نصرت میں دینیات کالج کی درجہ ثالثہ تک تعلیم پائی درجہ ثانیہ میں اچھے نمبر لینے کے انعام میں حضرت مصلح موعود سے وظیفہ ں کیا اور اسی بابرکت رقم سے وصیت کرنے کی توفیق ملی۔تقسیم برصغیر کے بعد پاکستان آئیں والد صاحب کے سرگودھا میں بطور مربی تعیناتی کے دوران 1948 میں سرگودھا میں لجنہ قائم کی۔1948 میں محترم رشیدالدین صاحب ایم۔اے کے ساتھ شادی ہوئی اللہ کے فضل سے ان کے والدین حضرت محمد عزیز الدین ولد حضرت محمد وزیر الدین اور والدہ حضرت عائشہ بی بی بھی رفقائے حضرت مسیح موعود تھے۔اس طرح حضرت اقدس کے بابرکت رفقاء کی نگرانی ، تربیت اور سائے میں تربیت پائی۔محترمہ امتہ الہادی صاحبہ نے کراچی لجنہ کی 1960 سے 2000 تک مختلف ذمہ دار عہدوں پر نمایاں خدمت کی۔متعدد اسناد خوشنودی کی حقدار قرار دی گئیں خلفائے کرام اور خاندان حضرت مسیح موعود سے انتہائی مخلصانہ عقیدت رکھتی تھیں۔جماعت کی طرف سے مالی قربانی کی تحریک میں مجاہدانہ حصہ لیتی ہیں کئی جگہ چندہ دہندگان میں آپ کا نام کندہ ہے حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی تحریک پر قرآن کریم کے دس پارے حفظ کئے قبل ازیں خطبہ الہامیہ اور قصیدہ بھی حفظ کیا۔زیر نظر کتاب کی اشاعت پر حضرت چھوٹی آپا مریم صدیقہ صاحبہ نے پانچ سو روپے انعام دیا اللہ تعالیٰ نے دو بیٹے ڈاکٹر نصیر الدین صاحب، فاتح الدین صاحب اور چار بیٹیاں حلیمہ ، امتہ الرشید ، امتہ القادر اور امتہ المعین عطا کیں جو سب خادم دین ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آپ اور آپ کے خاندان کے نفوس، اموال اور اخلاص میں نسلاً بعد نسل برکت عطا فرماتا چلا جائے۔آمین اھم آمین