حضرت رسول کریم ؐ اور بچے

by Other Authors

Page 34 of 54

حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 34

68 67 زنده درگور کر دیا جاتا تھا ان کے ساتھ ترجیحی سلوک کرنے کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم دی۔فرمایا جب تم اپنے بچوں میں تقسیم کرنے کے لئے کوئی چیز لاؤ۔تو بیٹیوں سے شروع کرو کیونکہ بیٹوں کے مقابلے میں بیٹیاں اپنے والدین سے زیادہ محبت کرتی ہیں۔ظالم باپ پر کوئی اثر نہ ہوتا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل عرب میں بچیوں سے کیا جانے والا سلوک بیان کرنے سے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔کسی کے گھر لڑکی پیدا ہونا بے عزتی خیال کیا جاتا تھا اور بچی کا وجود باپ کی عزت و ناموس پر دھبہ خیال کیا جاتا تھا۔لڑکی پیدا ہوتی تو اس کا باپ اس کو زندہ در گور کر دیتا۔گڑھا کھود کر اس میں دھکا دے کر مٹی ڈال کر دفن کر دیتا۔وہ ابا ابا پکارتی رہ جاتی مگر ظالم باپ پر کوئی اثر نہ ہوتا اور بچی کو ماں باپ کی شفقت کا کوئی لمحہ نصیب نہ ہوتا۔۔۔اور جب ایک مجلس میں ایک شخص نے اپنی پیاری بچی کو زندہ دفن کرنے کا درد انگیز واقعہ سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم اس ظلم کو کس طرح برداشت کر سکتے تھے۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسل نے اس کر یہ ظلم کو ہمیشہ کے لئے بند کرا دیا۔اور بچیوں کو زندہ درگور کیا جانا شرعی جرم قرار دے دیا اور یہ بھی فرمایا اگر جاہلیت کے کسی فعل پر سزا دینا جائز ہوتا تو میں زندہ درگور کرنے والے کو سزا دیتا۔لڑکوں کو لڑکی پر ترجیح نہ دو نیز فرمایا:۔(ادب المفرد ، سیرت النبی شبلی حصہ دوصفحه 625) جس شخص کے ہاں کوئی لڑکی ہو پھر وہ اس کو زندہ درگور نہ کرے اور نہ ہی اپنے لڑکوں کو اس پر ترجیح دے تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کرے (الفضل سیرت النبی نمبر 1983 شبلی حصہ ششم صفحه 378) گا۔اونٹوں پر آبگینے سوار ہیں انجشہ آہستہ چلاؤ اونٹوں پر آبگینے سوار ہیں عورت کے لئے ( قواریر) آبگینے کا لفظ استعمال کر کے کمزوری اور نازک مزاجی کی طرف اشارہ کیا اور اس کے ساتھ حسن سلوک اور حد درجہ محتاط ہونے کا ارشاد فرمایا نیز فرمایا’ وہ پہلی سے پیدا کی گئی ہے عورت کو پہلی سے مشابہ قرار دے کر اس سے حسن سلوک کرنے کی طرف نہایت لطیف پیرائے میں اشارہ کیا گیا ہے۔وو 66 کہ! عورتوں سے زیادہ سختی کا معاملہ نہ کیا کرو اگر تم زیادہ زور دو گے تو وہ ٹوٹ جائے گی سیدھی نہیں ہو سکے گی۔“ انسان کی صحیح تربیت میں آدھا حصہ عورت کا ہے نیز عورت کو مرد کے برابر درجہ عطا فرما کر اسکے حقوق و فرائض میں توازن قائم کر کے عزت و وقار قائم کردیا۔اور فر مایا آر وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ (بقره 229) پ نے اپنے آخری خطبہ میں فرمایا۔دیکھو میں تم کو عورتوں کے متعلق خاص طور پر وصیت کرتا ہوں کہ ان کا خیال رکھنا اور ان پر کبھی سختی نہ کرنا۔جس طرح ان کی ذمہ داریاں ہیں ان کے حقوق بھی ہیں اگر ایک