حضرت رسول کریم ؐ اور بچے

by Other Authors

Page 52 of 54

حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 52

104 103 تعارف کتاب از روزنامه الفضل ربوه لجنہ اماء اللہ کراچی کچھ عرصے سے نہایت قیمتی لٹریچر فراہم کر رہی ہے۔اس لٹریچر کی ایک کڑی ” حضرت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور بچے کی کتابی صورت میں ظاہر ہوئی ہے۔یہ کتاب محترمہ امتہ الہادی صاحبہ نے ترتیب دی ہے اور صدر صاحبہ لجنہ اماء اللہ کراچی محترمہ سلیمہ میر صاحبہ کے مطابق یہ کتاب شعبہ اشاعت مرکزیہ سے منظور شدہ ہے۔بہت آسان اور موثر انداز میں تحریر کی گئی ہے۔اس میں آپ کا بچوں سے پیار والدین کو نصائح اور بچوں کے بارے میں فقہی مسائل شامل ہیں۔اس کتاب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بچوں سے پیار کے جو واقعات درج کئے گئے ہیں والدین کے لئے ایک ایسی مشعل راہ ہیں جو بچوں کی تربیت کے سلسلے میں سب سے زیادہ روشنی مہیا کرتے ہیں۔آپ کا یہ پیار صرف ایک محبت کا جذبہ ہی نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے خدائی منشاء کے مطابق وہ مقصد بھی کار فرما تھا جس کے لئے آپ دُنیا میں تشریف لائے یعنی اخلاق حسنہ کی تعمیل کے لئے۔حضور کے بچوں سے پیار کے واقعات کو ان دونوں نظریوں سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ایک تو یہ کہ بچہ پیار کا مستحق ہے دوسرے یہ کہ اسی پیار کے ذریعے اس کی تربیت کرنا مقصود بن جائے۔جن بچوں کا اس رنگ میں ذکر ہے کہ انہوں نے اپنے آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار کا اظہار کیا وہ نہ صرف ہمارے بچوں کے لئے رہنمائی کا باعث ہیں بلکہ بڑوں کو بھی ایک رنگ میں تلقین کا موجب ہیں کہ اپنے بچوں کو اس طرح بزرگ ہستیوں سے پیار کرنا سکھانا چاہئے۔کتاب کا اختتام حضرت خلیفہ امسیح الرابع کے ایک خطبہ کے اقتباس پر کیا گیا ہے۔جس میں حضور نے اس بات کی تلقین فرمائی ہے۔کہ تربیت کا کام بچوں کی زندگی کے روزِ اوّل سے ہی شروع ہوجانا چاہئے۔اور اس وقت سے ہی اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اس کے سامنے صرف ایسی باتیں کی جائیں یا ایسے کام کئے جائیں جو نیکی کی طرف رغبت دلانے والے ہوں کیونکہ بچوں کے دماغ پر کسی نہ کسی رنگ میں تمام وہ باتیں اور وہ افعال جو اس کے سامنے کئے جائیں مرتسم ہو جاتے ہیں اور بڑا ہوکر غیر شعوری طور پر ہی سہی ان سے متاثر رہتا ہے۔پس یہ کتاب اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ زیادہ تعداد میں بچوں کے ہاتھوں میں جائے۔ہمارے سامنے اکثر یہ بات آئی ہے کہ ایسی کتابوں سے چند ایک لوگ تو فائدہ اٹھا لیتے ہیں لیکن اکثریت کے ہاتھوں میں یہ کتاب نہ جانے کی وجہ سے وہ لوگ اس سے محروم رہ جاتے ہیں حالانکہ جیسا کہ مرتبہ نے دُعا کی ہے۔خدا تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپنے پیارے آقا کی حسین اور پیاری تعلیم پر صدق دل سے عمل کریں۔اس میں ہی ہماری بہتری ہے اور اسی میں ہماری اولادوں کی بھی بہتری ہے۔آمین ثم آمین۔یہ بات حاصل کرنے کے لئے لازم ہے کہ یہ کتاب اگر ہر احمدی بچے کے ہاتھ میں نہ دی جائے تو کم از کم ہر احمدی گھرانے میں ضرور موجود ہونی چاہئے۔از محترم جناب نور محمد نسیم سیفی صاحب ایڈیٹر روز نامہ الفضل 25 ستمبر 1990)