حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 4
8 7 تک پہنچاؤں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے وجود کو دنیا میں ہر قسم کے حالات سے گزارا اور آپ کی زندگی کا کوئی گوشہ ادھورا اور نامکمل نہیں۔آپ کی سیرت کے جس پہلو کو دیکھیں وہ قرآنی ارشاد إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (القلم : 4) کے مطابق اخلاق کے انتہائی عظمت و کمال پر متم متمکن ہے۔عادات مبارکہ ہمارے پیارے آقا کبھی کسی کو بُرا بھلا نہیں کہتے تھے۔اگر کوئی بُرا سلوک کرتا تو اس کے جواب میں کبھی بُرا سلوک نہ فرماتے بلکہ درگزر کرتے اور معاف فرما دیتے۔☆ اپنے ذاتی معاملات میں کبھی کسی سے انتظام نہیں لیا۔آپ نے کبھی کسی غلام لونڈی یا کسی عورت یا خادم کو یہاں تک کہ کسی جانور کو بھی اپنے ہاتھ سے نہ ما آپ نے کبھی کسی پر لعنت نہ کی گھر تشریف لاتے تو خندہ پیشانی سے اور مسکراتے ہوئے۔بہت نرم طبیعت تھے کسی کی عیب گیری نہ کرتے۔حضرت ابوسعید خدری بیان کرتے ہیں کہ آپ کی زندگی بے حد سادہ تھی۔آپ کسی کام میں عار نہیں سمجھتے تھے اپنے اونٹ کو خود چارہ ڈالتے تھے۔گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹاتے اپنی جونیوں کی خود مرمت کر لیتے۔کپڑوں کو پیوند لگا لیتے۔بکری دوھ لیتے خادم کو اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلاتے۔آٹا پیتے پیتے اگر خادم تھک جاتا تو اس میں اس کی مدد فرماتے۔بازار سے گھر کا سامان اُٹھا کر لانے میں شرم محسوس نہ کرتے۔امیر غریب ہر ایک سے مصافحہ کرتے۔سلام میں پہل کرتے۔اگر کوئی معمولی کھجوروں کی بھی دعوت دیتا تو آپ اس کو حقیر نہ سمجھتے اور قبول فرماتے۔آپ نہایت ہمدرد۔نرم مزاج اور حلیم الطبع تھے۔آپ کا رہن سہن بڑا صاف ستھرا تھا۔تبسم آپ کے چہرہ پر جھلکتا رہتا۔آپ زور دار قہقہہ لگا کر نہیں ہنتے تھے۔خدا کے خوف سے فکر مند رہتے۔لیکن ترش روئی اور خشکی نام کو نہ تھی۔منکسر المزاج تھے۔لیکن اس میں کسی کمزوری پست ہمتی کا شائبہ تک نہ تھا۔بڑے سخی ( کھلے ہاتھ کے) لیکن بے جا خرچ سے ہمیشہ بچتے۔نرم دل، رحیم و کریم تھے۔ہر مسلمان سے مہربانی سے پیش آتے۔اتنا پیٹ بھر کر نہ کھاتے کہ اباسیاں آتی رہیں۔کسی حرص وطمع کے جذبے سے ہاتھ نہ بڑھاتے، بلکہ صابر و شاکر اور کم پر قانع رہتے۔کھانے میں کبھی نقص نہ نکالتے اور نہ کبھی یہ فرماتے کہ یہ کھانا برا ہے ترش ہے نمک کم ہے یا زیادہ ہے شوربہ گاڑھا ہے یا پتلا۔پسند ہوتا تو کھا لیتے ورنہ چھوڑ دیتے۔(مدارج النبوة ) اشغال تعلیم و تربیت ہمارے پیارے آقا نے ہمیشہ اپنا شغل تعلیم و وعظ ہی رکھا اور اپنی سادہ زندگی کو کبھی نہ چھوڑا۔آپ لوگوں کو خدائے واحد کی پرستش کی تعلیم دیتے۔اخلاق فاضلہ اور معاملات کے متعلق اسلامی احکامات لوگوں کو سکھاتے۔پانچ وقت کی نماز مسجد میں آکر خود پڑھاتے۔جن لوگوں میں جھگڑے ہوتے اُن