حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 39
78 77 زیست نہیں۔(ابن ماجہ ابواب النكاح افضل النساء) نیک اور خوش اخلاق بیوی کا گہرا اثر اولاد پر پڑتا ہے اس طرح ایک دائمی نعمت ہے۔ظاہر ہے بچپن میں اولاد کی اصل تربیت ماں کے سپرد ہوتی ہے کیونکہ ایک تو طبعا بچے کو ماں کی طرف زیادہ رغبت ہوتی ہے اور وہ ماں کے پاس زیادہ وقت گزارتا ہے اور وہ اس سے زیادہ بے تکلف بھی ہوتا ہے۔اور دوسرے باپ اپنے فرائض کی وجہ سے اولاد کی طرف زیادہ توجہ بھی نہیں دے سکتا۔اس لئے اولاد کی ابتدائی تربیت کی بڑی ذمہ داری بہر حال ماں پر ہوتی ہے اگر ماں نیک اور با اخلاق ہوگی تو وہ اپنے بچوں کے اخلاق کو شروع سے ہی اچھی بنیاد پر قائم کر دیتی ہے۔اور دیندار ماں ہی اولاد کی صحیح رنگ میں تربیت کر سکتی ہے۔مرد خواہ کتنا ہی نیک ہو۔اگر اس کی بیوی اس کا ساتھ نہ دے تو اس کی اولاد ضائع ہو جاتی ہے۔پس گھریلو اتحاد اور گھریلو خوشی کی حقیقی بنیاد عورت کے دین اور اس کے اخلاق پر قائم ہوتی پس ماں اگر چاہے تو اپنے بچوں کو جنتی بناسکتی ہے۔اور ماں کی اچھی تربیت کے نتیجے میں ساری قوم کا قدم ہی جنت کی طرف اُٹھ سکتا ہے۔پس نیک ماں کی نگرانی میں تربیت پانے والے بچے نہ صرف دن رات اپنی ماں کے نیک اعمال یعنی نماز ، روزہ، تلاوتِ قرآنِ کریم۔صدقہ خیرات اور جماعتی کاموں کے لئے چندے خدا اور رسول کی محبت اور دینی غیرت وغیرہ کے نظارے دیکھتے رہتے ہیں۔اسی لئے آپ نے فرمایا:۔تو با اخلاق اور دیندار رفیقہء حیات کا انتخاب کر ، اس طرح تو نہ صرف اپنی آئندہ زندگی کو کامیاب بنائے وو گا بلکہ تیری اولاد ایسی ہو گی جو دیندار اور بااخلاق ہوگی اور تیرے ذکر کو دوام بخشے گی“ ابن ماجہ۔ابوداؤد - حياة المسلين (باب فصل النكاح ، ابواب النکاح) اے عورتو! تم محمد کی تصویر اپنی اولاد کے دلوں پر کھینچو عورتوں کو خصوصیت کے ساتھ میں اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ سب سے زیادہ احسان ان پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے کیونکہ دُنیا کے پردہ پر عورتوں سے بڑھ کر کوئی مظلوم قوم نہ تھی۔عورتوں کے ساتھ حیوانوں سے بھی بدتر سلوک رکھا جاتا تھا۔یہ مخلوق کسی عزت کی مستحق نہ سمجھی جاتی تھی۔اس کا کوئی مقام نہ تھا اس کا کوئی حق نہ تھا۔رحمۃ للعلمین" اس مظلوم طبقہ کے لئے محسن اعظم بن کر آئے۔آپ کا عورتوں پر یہ بہت بڑا احسان ہے کہ آپ نے ان کی قدرومنزلت قائم کی اور ان کے احساسات و جذبات کا خیال رکھنے کی مردوں کو ہدایت کی۔اس احسان کی یاد میں جو آپ نے عورتوں پر کیا ہے۔ان کا فرض ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ آپ کے اعمال و اخلاق کی نقل کریں۔اور اعمال و اخلاق کے یہی نقوش اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کے اندر پیدا کرنے کی کوشش کریں۔آج کا انسان در اصل مجبور ہوتا ہے ان اخلاق سے جو ٹو یا دس سال کی عمر میں اس کے بنا دیے جاتے ہیں وہ تو یا دس سال کی عمر تک ماں کی گود میں پلتا اور اس سے اخلاق و عادات سیکھتا ہے۔پس بہترین مصور دُنیا میں عورتیں ہوسکتی ہیں جن کی گود میں اُن کے بچے پلتے ہیں اور جو چھوٹی عمر میں ہی ان کے قلوب پر جو تصویر اُتارنا چاہیں اُتار سکتی ہیں۔پس تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر اپنی اولاد کے دلوں پر