حضرت رسول کریم ؐ اور بچے

by Other Authors

Page 20 of 54

حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 20

40 39 آنکھوں اور ہونٹوں پر رکھتے ، پھر یہ الفاظ ارشاد فرماتے:۔اللهم كما اريتنا اوله فَارنا آخره (زاد المعاد) اے اللہ جس طرح آپ نے ہمیں اس پھل کا شروع دکھلایا اسی طرح اس کا آخر بھی ہمیں دکھا“۔پھر آپ کی خدمت میں جو سب سے کم عمر بچہ (اسوہ رسول اکرم صفحہ 138) ہوتا اس کو وہ عنایت فرماتے۔پھل توڑنے کے لئے پتھر نہ مارو ایک اور واقعہ ہے ایک دفعہ ایک بچہ کھجور کے درخت سے کچھ کھجوریں گرانے کے لئے پتھر مار رہا تھا تو لوگ اس کو پکڑ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے آئے تو ہمارے مہربان آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے بچے! جو کھجوریں از خود گر گئی ہوں ان کو بیشک اُٹھا لیا کرو۔مگر پتھر نہ مارا کرو۔اور اس کے ساتھ اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا اور اس کے لئے دُعا فرمائی۔(الفضل 31 اکتوبر 1973) حضرت امام حسن اور صدقہ کی کھجور پھر یہ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حُسنِ تربیت کا ایک ثبوت ہے کی ایک دفعہ حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب کہ وہ ابھی بچے ہی تھے تو صدقہ کی کھجور اپنے منہ میں ڈال لی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے منہ میں انگلی ڈال کر نکال کر پھینک دی اور فرمایا تمہیں معلوم ہے ہم صدقہ نہیں کھاتے۔( بخاری ابواب الزكوة ، حدیث نمبر 1397) گویا اپنے نواسوں کی بچپن سے ہی تربیت کا خیال رکھتے تھے۔ان کو بھی اسلامی آداب سکھاتے اور حلال وحرام کی تمیز بھی سمجھاتے تھے۔پینے کے آداب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت مبارک بیٹھ کر پانی پینے کی تھی آپ نے کھڑے ہوکر پانی پینے کو منع فرمایا ہے۔(اسوہ رسول اکرم صفحه 139) پانی پینے میں تین مرتبہ سانس لیا کرتے حضرت انس فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پانی پینے میں تین مرتبہ سانس لیا کرتے اور یہ فرماتے کہ اس طرح سے پانی پینا زیادہ خوشگوار ہے اور خوب سیر کرنے والا ہے۔اور حصولِ شفا کے لئے اچھا ہے۔نیز فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی پانی پیے تو پیالے میں سانس نہ لے بلکہ پیالے سے منہ ہٹالے۔سرد اور شیریں پانی زیادہ محبوب تھا۔دودھ کو پسند فرماتے تھے۔آپ نے فرمایا کوئی چیز ایسی نہیں جو کھانے اور پینے دونوں کے کام آئے۔بجز دودھ کے۔کھانے کے بعد دعا فرماتے۔اللهم زد نا خير منه اے اللہ ہمیں اس سے زیادہ اور بہتر عطا فرما۔پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم شہد میں پانی ملا کر علی الصبح نوش فرماتے اور جب اس پر کچھ وقت گزر جاتا اور بھوک معلوم ہوتی تو جو کچھ کھانے کی قسم کا ہوتا تناول فرماتے۔(مدارج النبوة، اسوہ رسول اکرم صفحه 139)