حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 13
26 25 کے وقت انہیں پانی مل جاتا تھا۔خواہ وہ جنگل میں ہوں، صحرا میں ہوں یا (الفضل ربوہ 14 دسمبر 1974 ص 3 ) آبادی میں۔شیر خوار بچوں پر شفقت ย آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آزاد کردہ لونڈی سے روایت ہے کہ آپ عاشورہ کے دن صحابہ کرام کے شیر خوار بچوں اور اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ کے بچوں کو بلا کر ان کے منہ میں اپنا لعاب دہن ڈال دیتے اور ان کی ماؤں سے فرما دیا کرتے تھے کہ اب ان کو دن بھر دودھ نہ پلانا۔مدینے میں مہاجرین کا پہلا بچہ الفضل 14 دسمبر 1974 ص 3) ہجرت مدینہ کے بعد مہاجرین کے ہاں جو بچہ پیدا ہوا وہ عبداللہ بن زبیر تھے جن کی سب نے بے حد خوشی منائی۔زبیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی تھے اور ان کی بیوی یعنی عبداللہ کی ماں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بڑی بیٹی حضرت اسماء تھیں۔جس وقت عبد اللہ کو اُٹھا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور کو اپنے منہ میں نرم کر کے اس کا لعاب عبداللہ کے منہ میں ڈالا اور ان کے لئے دُعا فرمائی۔(فدایان رسول ص 123 ، اسوہ رسول اکرم ﷺ ص 613) سو سال کی عمر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی حضرت عبداللہ بن سیر رضی اللہ تعالیٰ تھے جب وہ بچہ تھے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سر پر ہاتھ رکھ کر فرمایا اس لڑکے کی عمر سو سال کی ہو گی چنانچہ ان کی عمر ایک سوسال کی ہوئی۔ماں سے بھی بڑھ کر مشفق حضور ( بیہقی حجۃ اللہ صفحہ 501) ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ماں سے بھی بڑھ کر بچوں پر شفقت کرنے والے تھے۔ایکدفعہ ایک عورت اپنا بیمار بچہ لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی کہنے لگی حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ بچہ ہمیشہ بیمار رہتا ہے اس کو کئی بیماریاں ہیں۔رصلی اللہ علیہ وسلم دُعا کریں یہ مر جائے اور اس کو تکلیفوں سے نجات ملے۔ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر رحم آیا۔آپ نے فرمایا کیا میں یہ دُعا نہ کروں کہ تیرا بچہ تندرست ہو جائے پھر جوان ہو کر جہاد میں شریک ہو اور شہادت کا درجہ پالے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا وہ بچہ تندرست ہوا۔بڑا ہو کر مخلص مسلمان بنا اور میدانِ جنگ میں شہادت پائی۔ماں تو کہتی ہے کہ بچہ مر جائے۔مگر ماں سے زیادہ مشفق نے فرمایا نہیں میں دُعا کرتا ہوں بچہ زندہ رہے گا۔آگ سے جلا ہوا بچہ لعاب مبارک سے ٹھیک ہو گیا حضرت محمد بن حاطب روایت کرتے ہیں کہ جب میں بچہ تھا تو میں ایک روز اپنی ماں کی گود میں سے آگ میں گر کر جل گیا چنانچہ اس وقت میری والدہ مجھے اُٹھا کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازراہ شفقت مجھے گود میں لیا اور میرے جسم کے جلے ہوئے حصوں پر لعاب دہن لگا کر دُعا فرمائی تو میں بالکل ٹھیک ہو گیا (صحت یاب ہو گیا)۔الفضل 14 دسمبر 1974 ص 4) (ابن عساکر)