حضرت رسول کریم ؐ اور بچے

by Other Authors

Page 30 of 54

حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 30

60 59 اجازت مل گئی۔(ابن ہشام جلد ثانی جز ثالث 586) سات بہنوں کا ایک بھائی میدان جنگ میں حضرت جابر ایک بچے ہی تھے جو سات بہنوں کے واحد بھائی تھے۔ان کے والد بھی شہید ہو چکے تھے۔جنگ اُحد کے بعد پھر جنگ کا اعلان ہوا تو جابر جہاد میں شامل ہونے کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اجازت چاہی۔آپ میدان جنگ میں جانے کے لئے بے قرار تھے حضور کے سامنے گھٹنے ٹیک کر جھک کر اس قدر عاجزی سے التجا کی کہ حضور نے متاثر ہو کر اجازت دے دی۔چنانچہ خوشی خوشی میدانِ جنگ میں پہنچ گئے۔عقاق محمد صلی اللہ علیہ وسلم (فدایانِ رسول 118) عشق محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں کمسن بچوں کی بہادری اور جاں سپاری کے یہ واقعات اس امر کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ وہ آپ کے حسن سلوک اور محبت و شفقت کے گرویدہ تھے۔آپ نے ان کے دل و جان پر یہاں تک قبضہ کر لیا تھا کہ وہ اپنا سب کچھ آپ پر نچھاور کرنے پر تلے بیٹھے تھے۔اور ان معصوم بچوں نے اس بات کو یقیناً سچ کر دکھایا تھا کہ ” یا رسول اللہ ! ہم آپ کے دائیں بھی لڑینگے اور بائیں بھی لڑینگے اور آپ کے آگے بھی لڑینگے اور آپ کے پیچھے بھی لڑینگے اور دشمن آپ تک ہرگز نہیں پہنچ سکے گا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ جائے۔(الفضل 31دسمبر 1977) يَا حِبِّ إِنَّكَ قَدْ دَّ خَلْت مَحَبَّةٌ فِي مُهْجَتَى وَ مَدَا رِكِي وَ جَنَا نِي اے میرے محبوب ایقیناً آپ کی محبت مجھ میں میری جان ،میرے دماغ اور میرے دل میں رچ گئی ہے۔پس یہ اسلام کے بچوں کی بہادری اور شجاعت کی ایسی زندہ ، روشن اور سنہری داستانیں ہیں جو قیامت تک مشعل راہ کا کام دیتی رہیں گی انشاء اللہ العزيز قرآن کریم میں ارشاد ہے:۔(ال عمران: 160) فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ ج وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَا نُفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ کہ اے نبی تیری طبیعت میں خدا نے جو رحمت و شفقت کا جذبہ رکھ دیا ہے اس کی وجہ سے تو ان سب سے نرمی ، حلیمی اور شفقت سے پیش آتا ہے۔اور اگر کہیں خدانخواستہ تو سخت دل، سخت مزاج ، درشت زبان ، بد زبان اور ترش رُو ہوتا تو کوئی بھی تیرے قریب نہ آتا۔اور سب دور دور ہی رہتے۔پس یہ تیری شفقت و محبت اور حسن سلوک کی وجہ سے ہی ہے کہ یہ سب تیرے ساتھ جذبہ محبت و عشق رکھتے ہیں اور تجھ پر دیوانہ وار فدا ہوتے ہیں یہ وہ بے پایاں شفقت و محبت ہے جس کی نظیر روئے زمین پر آج تک نہیں مل سکی ہے نہ آئندہ مل سکے گی۔سب سے پیارا نبی صلی اللہ علیہ وسلم محبت محبت سے پیدا ہوتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان لَا يُؤْمِنُ اَحَدَكُمْ حَتَّى اَكُون اَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِين (حديث الاخلاق ص 22 حدیث نمبر (4) کہ کوئی اس وقت تک سچا مومن نہیں کہلا سکتا جب تک کہ میں اس کو اس کے ماں باپ اس کی اولاد اور دوسرے سب لوگوں سے زیادہ پیارا نہ لگوں۔