حضرت رسول کریم ؐ اور بچے

by Other Authors

Page 14 of 54

حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 14

28 27 گونگا بچہ باتیں کرنے لگا حجتہ الوداع کے موقعہ پر ایک عورت اپنا بچہ لے کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا ”حضور یہ گونگا ہے۔بولتا نہیں۔حضرت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت پانی منگوایا ، کلی کی اور اپنے ہاتھ دھوئے اور ارشاد فرمایا یہ پانی اس کو پلا دو اور کچھ پانی اس کے جسم پر چھڑک دو۔دوسرے سال وہ عورت آپ کے پاس آئی اور خوش ہو کر بیان کیا۔حضور کی دعا سے اب میرا بیٹا باتیں کرتا ہے اور بالکل اچھا بولتا ہے۔الفضل 14 دسمبر 1974 ص 4) بچے نے معجزہ دیکھ کر اسلام قبول کرلیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوئی کے وقت حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ابھی کمسن تھے اور بکریاں چرا رہے تھے۔کہ آنحضرت " مع حضرت ابوبکر ادھر آ نکلے۔حضرت ابوبکر نے اُن سے کہا بچے اگر تمہارے پاس دودھ ہے تو پلاؤ مگر بچے نے جواب دیا کہ بکریاں کسی کی ہیں اس لئے میں آپ کو دودھ نہیں پلاسکتا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی ایسی بکری جس نے ابھی بچہ نہ دیا ہو تو اُسے لاؤ۔چنانچہ وہ ایک بکری لے آیا آپ نے اُس کے تھنوں پر ہاتھ پھیر کر دعا مانگی تو اتنا دودھ اُتر آیا کہ تینوں نے سیر ہو کر پیا پھر میں نے عرض کیا مجھے قرآن مجید سے کچھ سنائیے اس پر حضور اقدس نے قرآن مجید کا کچھ حصہ سنایا حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں میرے اسلام قبول کرنے کا موجب اس وقت یہی معجزہ ہوا۔( اسد الغابہ تذکرہ عبد اللہ بن مسعود ،الفضل 14 دسمبر 4،1974) ایک بچے کی قربانی اور اس کے ثمرات ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرمار ہے تھے کہ جو شخص کی حالت میں صبر کرے اللہ تعالیٰ اُسے غنی کرے گا۔حضرت ابوسعید خدری جن کی عمر اپنی والدہ کی وفات کے وقت 13 سال تھی اور فاقوں کے وقت ان کی ماں نے حضور سے کچھ مانگنے کے لئے بھیجا تھا۔مگر جب آپ نے حضور کا خطبہ سنا تو واپس آئے اور سوچا کہ جب میرے پاس اونٹنی ہے تو پھر مجھے مانگنے کی کیا ضرورت ہے۔اس صبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی بات ان کے حق میں پوری کی اور اس قدر رزق دیا کہ تمام انصار سے دولت ، ثروت میں بڑھ گئے۔چڑیا کے بچوں پر شفقت ایک موقعہ پر ایک صحابی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ان کی جھولی میں کوئی چیز تھی انہوں نے عرض کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم آج میں نے عجیب واقعہ دیکھا۔میں نے ایک پرندے کے بچے پکڑ کر جھولی میں ڈال لئے تو بچوں کی ماں میرے سر پر منڈلانے لگی۔میں نے جھولی کھولی تو بچوں کی محبت کی وجہ سے بچوں کی ماں بھی سیدھی میری جھولی میں آگئی اور بچوں سے لپٹ گئی۔میں نے جھولی بند کر لی۔اب بچے اور ان کی ماں میری جھولی میں ہیں۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کو چھوڑ دو۔خدا ان بچوں کی ماں سے بھی زیادہ اپنے بندوں سے محبت کرنے ( حديقة الصالحين 687 حدیث نمبر 723) والا ہے۔مضطرب پرندے پر شفقت ایک موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک پرندہ