حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی ؓ — Page 4
5 امام مہدی کی تلاش سے معلوم ہوتا ہے کہ امام مہدی پیدا ہو لئے۔مجھے یہ سن کر بڑی خوشی ہوئی اور ہر روز اس قصیدہ کو پڑھتا اور چومتا۔کبھی اس کو پڑھتا اور کبھی اور کتابوں کے موافق زمانہ کے حالات خراب پر نظر ڈالتا تو معلوم ہوتا کہ ضرور یہ زمانہ امام مہدی ومسیح کا ہے پھر جو دل میں سماتا کہ لاکھوں آدمیوں میں حضرت امام مہدی کی زیارت کیسے نصیب ہوگی ، تو اس نا امیدی سے چیخ مار کر رو دیا کرتا تھا۔“ ( تذكرة المهدی صفحه 171-170) حضرت پیر صاحب کو اللہ تعالیٰ نے کچھ ایسی فراست عطا فرمائی تھی کہ چاروں طرف دینی ماحول کے باوجود آپ کو کہیں بھی چین نہ آتا تھا، کہیں تسکین قلب نہ ملتی تھی۔چنانچہ آپ نے اس غرض کے لئے کئی سفر کئے۔کئی چلے کاٹے ، پیروں فقیروں کی صحبت میں جا کر رہے۔آپ کو یہ اندازہ تھا کہ اس زمانہ میں امام مہدی نے آنا ہے اور زمانے کے حالات بھی اسی طرف اشارہ کر رہے ہیں لیکن ان کی یہ بھی خواہش تھی کہ وہ امام ان کی زندگی میں مبعوث ہوں جن کا انتظار کرتے نصرت الہی کرتے ہزاروں اولیاء، ابدال، غوث اور قطب گزر گئے اور آپ کو ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے اور صحبت مبارکہ میں رہنے کا شرف حاصل ہو۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں: کتابوں میں ، وعظوں میں یہ دیکھ کر اور سن کر کہ حضرت امام مہدی پیدا ہوں گے اور عیسی ان کو پہچان سکیں۔علیہ السلام آسمان سے نازل ہونگے ، نہایت شوق تھا اور خدا سے دعائیں کرتا کہ الہی ہمارے زمانہ مجد والوقت کی خبر اور ملاقات کا شوق میں بھی امام مہدی اور حضرت عیسی ہونگے اور ہمیں بھی کبھی زیارت ہوگی ؟ پھر خیال آتا کہ امام اللہ تعالیٰ نے حضرت پیر صاحب کی اس تڑپ کو دیکھا اور آپ کی دعاؤں کو شرف قبولیت بخشا اور مبشر رؤیا کے ذریعے آپ کو خبر دی کہ مہدی وقت کون ہیں تا کہ وقت آنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس خبر کے بعد آپ کے اندر مزید تڑپ پیدا ہوگئی اور ایک امیدسی مہدی و عیسی کہاں اور ہم کہاں۔پھر خیال ہوتا کہ اگر عیسی ہوئے بھی تو ہم جیسوں کو زیارت کب نظر آنے لگی۔انہیں دنوں میں آپ کو اطلاع ملی کہ قادیان میں کسی نے مجدد ہونے کا دعویٰ کیا نصیب ہوگی ، وہاں تو عالم، فاضل، غوث، قطب، ابدال، امیر کبیر ، بادشاہ ، نواب تمام دنیا کے جمع ہے۔چنانچہ آپ خبر ملتے ہی فوراً قادیان کے لئے روانہ ہو گئے تا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہوں گے تیرے جیسوں کی رسائی اس دربار میں کب ہو سکے گی۔پھر میں نے درخت پر چڑھنے کی مشق کی کہ اگر حضرت امام مہدی اور عیسی علیہ السلام ہمارے زمانہ میں ہو بھی جاویں اور ان سے ملا جا سکے اور آپ کے دعوئی کے بارے میں معلوم کیا جائے۔چنانچہ آپ قادیان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ علیہ السلام سے آپ کے دعوی کے بارے کے دربار میں باریابی نہ ہو تو وہ جنگ کے لئے یا کسی اور مقصد کے لئے سواری پر نکلے تو درخت پر میں پوچھا اور آپ کے دلائل سنے۔بیٹھ کر ہی زیارت کر لیں گے۔پھر دعائیں کرتا اور رو رو کر دعائیں کرتا کہ الہی ان کی زیارت نصیب ہو ، جوانی میں ہو، ضعیفی میں ہو، خواہ کسی طرح سے ہو۔ایک دفعہ میرے دوست ولی محمد بیعت کرنا سرساوی نے ایک قصیدہ شاہ نعمت اللہ ولی کا پرانا بوسیدہ کرم خوردہ (جسے کیڑہ لگا ہو ) لا کر دیا اور کہا جب حضرت پیر صاحب کو خبر ہوئی کہ حضور اقدس علیہ السلام لدھیانہ میں قیام فرما ہیں تو کہ تم کو بڑا شوق ہے کہ حضرت امام مہدی کی زیارت ہو سو تم کو مبارک ہو اس قصیدہ کے حساب آپ نے ارادہ کیا کہ بیعت کر لی جائے۔چنانچہ اس غرض اسے آپ متعدد بار، بعض دفعہ تو کسی