حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی ؓ

by Other Authors

Page 16 of 19

حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی ؓ — Page 16

29 28 ایک اور جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالہ سے آپ بیان فرماتے ہیں کہ فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ السلام بننے لگے اور فرمایا اس شخص پر یہ مثال خوب صادق آتی ہے۔بے ” صاحبزادہ صاحب تمہارے اس بیان سے اور ان عادات سے جو ہمیں ہر روز مشاہدہ ہوتا شک یہ آج بھولے سے ( بیت الذکر) میں آگیا ہے۔وہ شخص ایسا خفیف اور شرمندہ ہوا کہ اسی روز ہے معلوم ہوتا ہے کہ تم میں نرمی بہت ہے اور کبھی غصہ نہیں آتا ہے اور بردباری بہت ہے۔مگر یہ سے نماز پڑھنے لگا۔“ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ غضب بھی خطرناک ہوتا ہوگا۔میں نے عرض کیا کہ حضرت سچ ہے اول تو مجھ اہل وعیال سے سلوک کو غصہ آتا نہیں اور جو آتا ہے تو پھر اس کا جانا محال۔فرمایا حدیث میں بھی آیا ہے اَعُوذُ بِاللهِ مِنْ غَضَبِ الْحَلِيمِ “ مزاح ( تذكرة المهدی صفحه 179) جیسا کہ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتا ہے۔حضور ﷺ کے اس فرمان کے تحت حضرت پیر صاحب کا بھی اپنے ( تذكرة المهدی صفحهیم ) گھر والوں ، خاص کر اپنی اہلیہ سے بہت ہی محبت والا سلوک تھا۔حضرت پیر صاحب گھر کے کام کاج اکثر خود کیا کرتے تھے۔آپ خود ہی گھر میں جھاڑو دے دیا کرتے تھے اور خود ہی برتن بھی حضرت پیر صاحب جہاں بعض مواقع پر اپنے غصہ کا اظہار فرماتے تھے تو وہاں بعض دھو لیتے تھے۔مواقع پر نہایت لطیف مزاح بھی آپ کی طبیعت میں پایا جاتا تھا۔بعض دفعہ حضرت پیر صاحب دوسری اہلیہ چونکہ بہت چھوٹی تھیں اس لئے بعض دفعہ کھانا بنانا بھول جاتیں تھیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی بعض دلچسپ حکایات ولطائف سنایا کرتے تھے۔اسی طرح صاحبزادہ صاحب کا رویہ ان سے بہت ہی اچھا ہوتا تھا۔جب کبھی بھی ایسا ہوا کہ کھانا بنانا بھول گئیں تو رونے لگ جاتیں ، اس پر پیر صاحب ان کو تسلی دیتے اور فرماتے ”میں نے بند لا کر کھا لیا ایک دفعہ کا ذکر ہے: قادیان کی ( بیت الذکر) میں ایک ایسا شخص جو پہلے ( بیت الذکر ) میں نہ آیا تھا اچانک (بیت ہے اگر تمہیں بھوک لگی ہے تو لا دیتا ہوں۔“ (روایات صاحبزادی صاحبہ حضرت پیر صاحب) الذکر) میں دیکھا گیا۔اس پر حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے دریافت فرمایا کہ تم ( بیت الذکر ) میں کس طرح آگئے؟ تم نماز تو پڑھتے نہیں ہو۔اس پر حضرت پیر صاحب نے فرمایا: زہد و تقویٰ آپ کے دل میں بچپن سے ہی اللہ تعالیٰ نے اس زمانے کی بری عادتوں اور بری روایات ”اس کی ایسی مثال ہے کہ ایک (آدمی ) کا گھوڑا چھوٹ کر ( بیت الذکر) میں گھس گیا۔کے متعلق نفرت رکھی ہوئی تھی اور آپ ہمیشہ ان کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔آپ کو بچپن سے لوگوں نے اس کو دھمکایا اور کہا کہ ( آدمی) تیرے گھوڑے نے ( بیت الذکر ) کی بے ادبی کی۔ہی روحانی ماحول میسر تھا اور طبیعت بھی نیکی کی طرف مائل تھی۔( آدمی ) نے جواب دیا کہ جناب گھوڑا حیوان تھا اس نے ( بیت الذکر ) کی بے ادبی کی اور ( بیت الذکر میں گھس گیا۔کبھی مجھے بھی دیکھا کہ میں نے کبھی (بیت الذکر ) کی بے ادبی کی ہو، اور مجھے نماز میں حضور قلب کی طلب کبھی ( بیت الذکر ) میں گھستے اور بے ادبی کرتے دیکھا ہے۔حضرت پیر صاحب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں آنے سے پہلے کئی قسم