حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی ؓ — Page 10
17 16 66 نے آپ کا نام 24 ویں نمبر پر درج کیا (انجام آتھم روحانی خزائن جلد نمبر 11 صفحہ 313(بقیہ موعود علیہ السلام کا خاص احسان اور شفقت کا تعلق تھا جو آپ علیہ السلام نے فرمایا حساب نہ دو “ حاشیہ) اور آئینہ کمالات اسلام میں 1892ء کے جلسہ سالانہ کا چندہ دینے والے احباب کی فہرست خطبہ جمعہ حضرت خلیفہ امسیح الرابع فرمودہ 7 مارچ 2003) میں آپ کا نام 267 ویں نمبر پر ہے۔نور الحق (روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 626) حضرت پیر صاحب کی حضور اقدس علیہ السلام سے محبت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی ایک تصنیف مبارک نور الحق کا نام بھی حضرت پیر صاحب کے نام پر رکھا تھا۔حضرت پیر صاحب بیان فرماتے ہیں: پھر حضرت اقدس علیہ السلام نے اس کتاب کا جواب لکھنا شروع کیا۔جب دو صفحے کتاب کے لکھے تو باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ " صاحبزادہ صاحب ہم نے اس کتاب کا نام تمہارے نام پر نورالحق رکھ دیا ہے۔“ حساب دوستان در دل حضرت پیر صاحب جوانی کی عمر سے اس تلاش میں تھے کہ کب امام وقت مبعوث ہوں اور ان کی بیعت کرنے اور صحبت میں رہنے کا شرف حاصل ہو۔جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی تضرعات کوسن لیا اور آپ کو اس امام موعود علیہ السلام کی بیعت کی توفیق عطا فرمائی تو آپ نے بھی اپنی زندگی اس امام وقت کے لئے وقف کر دی اور محبت کی اعلیٰ مثالیں قائم کیں۔حضرت پیر صاحب ان چند احباب میں سے ہیں جو دعویٰ سے بھی پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت سے فیضیاب ہوئے اور پروانوں کی طرح آپ کے گر درہتے تھے۔(تذکرۃ المہدی صفحہ 48) حضرت پیر صاحب کو جسم دبانے کا بہت اچھا طریقہ آتا تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی بہت پسند تھا اور آپ اکثر پیر صاحب سے دبوایا کرتے تھے۔اسی طرح ایک دفعہ حضرت مسیح حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 7 مارچ 2003 میں موعود علیہ السلام کے سر مبارک میں بہت درد ہوا تو آپ نے پیر صاحب کو فرمایا کہ تیل لگا کر حضرت پیر صاحب کی ایک روایت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ہماری پنڈلیوں کی مالش کرو۔سو آپ ایک اور رفیق کے ساتھ حضرت اقدس علیہ السلام کی حضرت پیر سراج الحق صاحب فرماتے ہیں کہ میں دارالامان سے بٹالہ کسی کام کو گیا اور پنڈلیوں کی مالش کرنے لگے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے اجازت طلب کی اور آپ علیہ السلام نے 20 روپے ( تذکرۃ المہدی صفحہ 52) ان واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ آپ یہی چاہتے تھے کہ ہر وقت حضور کی خدمت میں دیے کہ 20 روپے کا سودہ لیتے آنا۔میں نے تمام سودہ خریدا، شاید 2 روپے بچ گئے۔جب رہیں اور آپ علیہ السلام کی خدمت کرتے رہیں۔جب آپ کو کہیں جانا پڑتا تو حضور اقدس قادیان آیا اور آپ علیہ السلام کو وہ سودہ دیا کہ جو آپ نے منگایا تھا، ساتھ دو روپے بھی علیہ السلام سے اجازت لئے بغیر نہ جاتے اور اگر اجازت نہ ملتی تو نہ جاتے خواہ دنیا ادھر کی دئے۔فرمایا یہ کیسے ہیں؟ میں نے کہا یہ تو بچ گئے تھے۔فرمایا حساب نہ دو’حساب دوستاں در اُدھر ہو جائے۔اسی طرح ایک دفعہ حضرت پیر صاحب کو ایک مقدمہ در پیش آیا۔آپ نے اس سلسلہ میں بھی خود کوئی فیصلہ نہ کیا بلکہ حضور سے مشورہ کیا اور حضرت اقدس علیہ السلام سے ہی دل دوستوں کا حساب تو دل میں ہوا کرتا ہے۔اور نہ یہ ہمارا کام ہے۔“ اس کی تشریح میں حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اب لوگ اس سے غلط نتیجہ نہ نکال لیں۔حساب دیں تو پورا دینا چاہیے۔یہ حضرت مسیح اجازت طلب کی۔حضرت پیر صاحب کی حضور اقدس علیہ السلام سے محبت کا ایک یہ بھی انداز تھا کہ آپ نے