سیرۃ و سوانح حضرت عمرؓ

by Other Authors

Page 12 of 28

سیرۃ و سوانح حضرت عمرؓ — Page 12

21 حضرت عمر حضرت عمر 20 66 ”ہاں ہاں ضرور ایسا ہی ہے۔“ عمر نے کہا۔تو پھر ہم اپنے بچے دین کے معاملہ میں یہ ذلت کیوں برداشت کریں؟“ آپ نے حضرت عمرؓ کی حالت کود یکھ کر مختصر الفاظ میں فرمایا۔دیکھو عمر میں خدا کا رسول ہوں اور میں خدا کے منشاء کو جانتا ہوں اور اس کے خلاف نہیں چل سکتا اور وہی میرا مددگار ہے۔“ مگر حضرت عمر کی طبیعت کا تلاطم لحظہ بہ لحظہ بڑھ رہا تھا۔کہنے لگے۔" کیا آپ نے ہم سے یہ نہیں فرمایا تھا کہ ہم بیت اللہ کا طواف کریں گے؟“ آپ نے فرمایا۔ہاں میں نے ضرور کہا تھا مگر کیا میں نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ طواف ضرور اسی سال ہوگا ؟“ عمرؓ نے کہا۔نہیں ایسا تو نہیں کہا۔“ آپ نے فرمایا۔تو پھر انتظار کرو۔تم انشاء اللہ ضرور مکہ میں داخل ہو گے اور کعبہ کا طواف کرو گے۔“ مگر اس جوش کے عالم میں حضرت عمر وہاں سے اُٹھ کر حضرت ابوبکر کے پاس آئے اور ان کے ساتھ بھی اسی قسم کی جوش والی باتیں کیں اور حضرت ابو بکر نے بھی اسی قسم کے جواب دیئے۔لیکن ساتھ ہی حضرت ابو بکر نے نصیحت کے رنگ میں فرمایا۔دیکھو عمر سنبھل کر رہو اور رسول خدا کی رکاب پر جو ہاتھ تم نے رکھا ہے اسے ڈھیلا نہ ہونے دو۔کیونکہ خدا کی قسم یہ شخص جس کے ہاتھ میں ہم نے اپنا ہاتھ دیا ہے بہر حال سچا ہے۔“ حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ اس وقت میں اپنے جوش میں یہ ساری باتیں کہہ تو گیا مگر بعد میں مجھے سخت ندامت ہوئی اور میں تو بہ کے رنگ میں اس کمزوری کے اثر کو دھونے کے لئے بہت سے نفلی اعمال بجالایا۔یعنی صدقے کئے، روزے رکھے نفلی نماز میں پڑھیں اور غلام آزاد کئے تا کہ میری اس کمزوری کا داغ دھل جائے۔(بخاری کتاب الشروط ابن هشام حالات حدیبیه) فتح کی خوشخبری جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ سے واپسی کے لئے روانہ ہوئے تو حضرت عمر خود بیان کرتے ہیں کہ رات کے وقت جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں تھے تو اس وقت میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے کچھ عرض کرنا چاہا مگر آپ خاموش رہے۔میں نے دوبارہ اور سہ بارہ عرض کیا مگر آپ بدستور خاموش رہے۔مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاموشی پر بہت غم ہوا اور میں نے اپنے نفس میں کہا کہ عمرہ تو تو ہلاک ہو گیا کہ تین دفعہ تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کیا اور آپ نے جواب نہیں دیا۔چنانچہ میں مسلمانوں کی جمعیت میں سے سب سے آگے نکل آیا اور اس غم میں پیچ و تاب کھانے لگا کہ کیا بات ہے اور مجھے ڈر پیدا ہوا کہ کہیں میرے بارے میں کوئی قرآنی آیت نازل نہ ہو جائے۔اتنے میں کسی شخص نے میرا نام لے کر آواز دی کہ عمر بن خطاب کو رسول اللہ نے یا دفرمایا ہے۔میں نے کہا بس ہو نہ ہو میرے بارے میں کوئی قرآنی آیت نازل ہوئی ہے۔چنانچہ میں گھبرایا ہوا جلدی جلدی