سیرۃ و سوانح حضرت عمرؓ

by Other Authors

Page 13 of 28

سیرۃ و سوانح حضرت عمرؓ — Page 13

22 حضرت عمر رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام عرض کر کے آپ کے پہلو میں آ گیا۔آپ نے فرمایا کہ مجھ پر اس وقت ایک ایسی سورۃ نازل ہوئی ہے جو مجھے دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے۔پھر آپ نے سورۃ فتح کی آیات تلاوت فرمائیں۔حضرت عمرؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا یہ صلح واقعی اسلام کی فتح ہے؟ آپ نے فرمایا یقینا یہ ہماری فتح ہے اس پر حضرت عمر نسلی پا کر خاموش ہو گئے۔(بخاری کتاب التفسیر، مسلم باب صلح حدیبیه حضرت نبی کریم کا وصال اھ میں جب ایک مختصر بیماری کے بعد حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو حضرت عمر فاروق کی حالت شدید غمزدہ تھی۔آپ نے تلوار سونت لی اور یہ اعلان کیا کہ جو یہ کہے گا کہ محمد فوت ہو گئے ہیں میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔اس موقع پر حضرت ابوبکر تشریف لائے اور حضرت رسول کریم کے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹایا اور پیشانی پر بوسہ دیا اور فرمایا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، خدا کی قسم! اللہ آپ پر دو موتیں اکٹھی نہیں کرے گا۔وہ موت جو مقدر تھی وہ آچکی۔پھر آپ نے لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا: ”لوگو! سن لو جو محمد کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد فوت ہو گئے اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا جان لے کہ اللہ زندہ ہے اور کبھی نہیں مرے گا۔“ اس کے بعد آپ نے سورۃ آل عمران کی ان آیات کی تلاوت فرمائی۔وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُل أَفَائِنُ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمُ عَلَى أَعْقَابِكُمْ - حضرت عمر حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ ” جب میں نے یہ آیت سنی تو میرے پاؤں لڑکھڑا گئے اور میں زمین پر گر گیا کہ واقعی حضور صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے ہیں۔“ (بخاری کتاب المغازی) انتخاب خلافت اولی 23 آنحضور ﷺ کی وفات کے بعد کچھ مہاجرین اور انصار نے جو بڑے مرتبہ کے صحابہ تھے ایک جگہ اکٹھے ہو کر حضرت ابو بکر کو اپنا خلیفہ چن لیا اور اس وقت موجود تمام صحابہ نے آپکی بیعت کر لی۔اگلے روز حضرت ابوبکر سے قبل حضرت عمر منبر پر تشریف لائے اور خدا کی تسبیح وتحمید بیان کرنے کے بعد کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں سب سے بہتر آدمی کے ہاتھ پر جمع کر دیا ہے۔جس کے بارے میں اِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنا کی آیات نازل ہوئی ہیں یعنی ابوبکر کو حضور کا ساتھی قرار دیا گیا جو غار میں آنحضرت کے ساتھ تھے۔پس اٹھو اور ان کی بیعت کرو۔چنانچہ حضرت عمرؓ کی اس تقریر کے بعد عام بیعت شروع ہوئی۔عہد صدیقی میں حضرت عمرؓ کی اہم خدمات حضرت ابو بکر کی خلافت کے دور میں حضرت عمر آپ کے خاص الخاص مشیر و مددگار دکھائی دیتے ہیں۔حضرت ابوبکر ہر امر میں آپ سے مشورہ لیتے۔جب دور خلافت میں پہلے حج کا وقت آیا تو حضرت ابو بکر نے حضرت عمر کو امیر الحجاج مقرر فرمایا جس طرح حضرت رسول کریم نے حضرت ابوبکر کو امیر الحجاج مقرر فر مایا تھا۔