سیرۃ و سوانح حضرت عمرؓ

by Other Authors

Page 11 of 28

سیرۃ و سوانح حضرت عمرؓ — Page 11

19 حضرت عمر حضرت عمر 18 غزوہ خندق غزوۂ احد سے اگلے سال شوال ۳ھ میں کفار مکہ نے عرب کے دیگر قبائل کو برانگیخت کر کے دس ہزار افراد پر مشتمل ایک فوج تیار کی اور مدینہ کا محاصرہ کر لیا۔مسلمانوں نے مدینہ کے گرد ایک خندق کھود کر شہر کا دفاع کیا۔اس محاصرہ میں جو کہ تمیں دن تک جاری رہا، حضرت عمر اور آپ کے بیٹے عبداللہ بن عمرؓ دونوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دوش بدوش رہے۔کفار مکہ کبھی کبھی خندق میں اتر کر حملہ کرتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غرض سے خندق کے ساتھ ساتھ کچھ فاصلہ پرا کا بر صحابہ کو تعین کر دیا تا کہ دشمن اُدھر سے نہ آنے پائے۔ایک جانب سے جہاں حضرت عمرؓ متعین تھے ایک دن کافروں نے حملہ کیا جسے حضرت عمر نے آگے بڑھ کر روکا اور دشمنوں کا گروہ درہم برہم کر دیا۔اس وجہ سے پورا دن ان کو کافروں کے مقابلہ میں رہنا پڑا۔چنانچہ اس روز مسلمان ظہر وعصر کی نماز وقت پر ادا نہ کر سکے۔حضرت عمر نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ میں نے نماز نہیں پڑھی اور سورج غروب ہوا چاہتا ہے۔دشمنوں نے ہماری نماز قضا کر دی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔عمر بخدا میری نماز بھی رہ گئی۔چنانچہ حضور نے اکٹھی نمازیں پڑھائیں۔”اے مسلمانو! مجھے محض اسلام کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا ہے۔خدا کے لئے مجھے بچاؤ۔“ مسلمان اس نظارہ کو دیکھ کر تڑپ اٹھے مگر سہیل بھی اپنی ضد پر اڑ گیا اور کہنے لگا کہ یہ پہلا مطالبہ ہے جو میں اس معاہدہ کے مطابق آپ سے کرتا ہوں کہ ابوجندل کو میرے حوالے کر دیں۔حضور نے فرمایا کہ ابھی تو معاہدہ تکمیل کو نہیں پہنچا لیکن سہیل نہ مانا۔چنانچہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دردمندانہ الفاظ میں فرمایا: ”اے ابو جندل ! صبر سے کام لو، خدا کی طرف نظر رکھو، خدا تمہارے لئے اور تمہارے ساتھ کے دوسرے کمزور مسلمانوں کے لئے خود کوئی راستہ کھول دے گا لیکن ہم اس وقت مجبور ہیں کیونکہ اہل مکہ کے ساتھ معاہدہ کی بات ہو چکی ہے اور ہم اس معاہدہ کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے۔“ مسلمان یہ نظارہ دیکھ رہے تھے اور مذہبی غیرت سے ان کی آنکھوں میں خون اتر رہا تھا مگر رسول اللہ کے سامنے ادب سے خاموش تھے۔آخر حضرت عمرؓ سے رہا نہ گیا۔وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آئے اور کا نپتی ہوئی آواز میں عرض کیا۔” کیا آپ خدا کے برحق رسول نہیں ؟“ صلح حدیبیہ کے موقع پر حضرت عمرؓ کا جوش و خروش آپ نے فرمایا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سہیل بن عمرو کے ساتھ معاہدہ طے فرمارہے تھے تو اس موقع پر ابو جندل جو مسلمان ہو چکے تھے گرتے پڑتے وہاں پہنچ گئے اور دردناک آواز میں پکارنے لگے کہ ”ہاں ہاں ضرور ہوں۔“ حضرت عمرؓ نے کہا۔" کیا ہم حق پر نہیں اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں؟“ آپ نے فرمایا۔