سیرۃ و سوانح حضرت عمرؓ — Page 26
49 حضرت عمرؓ 48 حضرت عمرؓ کہتے ہیں میں نے یہ کیفیت دیکھی تو کہا میں اس شخص سے کبھی سبقت نہیں لے جا سکتا اور ابوبکر سے اس موقع پر کہا کہ ابوبکر میرے اہل اور میری جان آپ پر قربان ، بھلائی اور نیکی کا جو بھی دروازہ کھلا آپ اس میں داخل ہونے کے لئے ہم سے سبقت لے گئے۔فتح خیبر کے موقع پر آنحضرت نے خیبر کی زمین مجاہدین میں تقسیم کی۔چنانچہ ایک ٹکڑا جمع نامی حضرت عمرؓ کے حصہ میں آیا۔حضرت عمرؓ نے اسے راہ خدا میں وقف کر دیا۔تواضع و انکساری حضرت عمرؓ کی عظمت اور رعب کا یہ عالم تھا کہ بڑی بڑی سلطنتوں کے بادشاہ بھی آپ کا نام سن کر تھراتے تھے۔دوسری طرف تواضع اور انکساری کا یہ عالم تھا کہ کاندھے پر مشک رکھ کر بیوہ عورتوں کے لئے پانی بھرتے تھے۔مجاہدین کی بیویوں کا بازار سے سودا سلف خرید کرلا دیتے تھے۔پھر اس حالت میں تھک کر مسجد کے گوشہ میں لیٹ جاتے تھے۔حضرت عمرؓ ا کثر سفر پر نکلتے مگر کبھی بھی آپ کے ساتھ خیمہ نہ ہوا کرتا بلکہ درخت کے سایہ تلے زمین پر آرام فرمالیا کرتے۔سفر شام کے موقع پر مسلمانوں نے اس خیال سے کہ عیسائی امیر المومنین کے معمولی لباس اور بے سروسامانی کو دیکھ کر اپنے دل میں کیا کہیں گے؟ سواری کے لئے ترکی گھوڑا اور پہننے کے لئے قیمتی لباس پیش کیا۔حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ خدا نے ہم کو جو عزت دی ہے وہ اسلام کی عزت ہے اور ہمارے لئے یہی کافی ہے۔ایک مرتبہ صدقہ کے اونٹوں کے بدن پر تیل مل رہے تھے۔ایک شخص نے کہا امیر المومنین یہ کام کسی غلام سے لیا ہوتا۔جواب دیا مجھ سے بڑھ کر کون غلام ہوسکتا ہے۔جوشخص مسلمانوں کا والی ہے وہ ان کا غلام ہے۔(کنزالعمال) رحمدلی 1ھ میں جب عرب میں قحط پڑا تو اس وقت حضرت عمر کی بے قراری دیکھنے کے قابل تھی۔دور دراز ممالک سے غلہ منگوا کر تقسیم کیا۔گوشت، گھی اور دوسری مرغوب غذا ئیں اپنی ذات کے لئے ترک کر دیں۔خدمت خلق (کنز العمال) حضرت عمر اپنی غیر معمولی مصروفیات میں سے بھی مجبور اور بے کس اور اپاہج آدمیوں کی خدمت گزاری کے لئے وقت نکال لیا کرتے تھے۔مدینے کے اکثر نابینا اور ضعیف اشخاص حضرت عمرؓ کی خدمت گزاری کے ممنون تھے۔خلوص کا یہ عالم تھا کہ خود ان لوگوں کو خبر بھی نہ تھی کہ یہ فرشتہ رحمت کون ہے؟ حضرت طلحہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز صبح سویرے امیر المومنین کو ایک جھونپڑے میں جاتے دیکھا۔خیال ہوا حضرت عمرؓ کا یہاں کیا کام؟ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ اس میں ایک نابینا ضعیفہ رہتی ہے اور وہ روزانہ اس کی خبر گیری کے لئے جایا کرتے ہیں۔اولیات عمر حضرت عمرؓ نے اپنے ۱۰ سالہ دورِ خلافت میں عوام الناس کی فلاح و بہبود کے لئے بعض ایسے کام جاری کروائے جن کی نظیر پہلے نہیں ملتی اس لئے ان کو مؤرخین اولیات عمر کے نام سے یاد کرتے ہیں۔بیت المال یعنی خزانہ قائم کیا۔عمال عدالتیں قائم کیں اور قاضی مقرر کئے۔