سیرۃ و سوانح حضرت عمرؓ

by Other Authors

Page 24 of 28

سیرۃ و سوانح حضرت عمرؓ — Page 24

44 حضرت عمر ایک دفعہ حضرت عمرؓ حضور کے پاس حاضر ہوئے۔حضور کھجور کی ایک معمولی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے۔یہ دیکھ کر حضرت عمر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔عرض کیا کہ قیصر و کسریٰ اُس آرام میں اور خدا کے رسول کی یہ بے سروسامانی۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔عمر! میری مثال اس دنیا میں ایک مسافر کی ہے۔آرام کے لئے ذرا لیٹ لیا پھر اپنی منزل کی طرف چل دیا۔حضرت ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کے وصال کے وقت میں آپ کی چار پائی کے پاس تھا کہ ایک شخص نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر حضرت عمرؓ سے مخاطب ہوکر کہا۔اللہ آپ پر رحم فرمائے۔مجھے اُمید ہے کہ اللہ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ رکھے گا۔میں اکثر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے سنا کرتا تھا۔آپ فرماتے میں تھا اور ابو بکر اور عمر۔میں نے اور ابو بکر اور عمر نے کہا۔میں اور ابو بکر اور عمر گئے۔مجھے امید ہے اللہ آپ کے ساتھ ان دونوں کو رکھے گا۔“ ایک دن نماز کے وقت حضرت بلال سے درخواست کی کہ آج اذان دو۔حضرت بلال نے کہا کہ میں عزم کر چکا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کے لئے اذان نہ دوں گا۔لیکن آج ( اور صرف آج) آپ کا ارشاد بجالا ؤں گا۔اذان دینی شروع کی تو تمام صحابہ کو رسول کریم کا عہد مبارک یاد آ گیا اور رقت طاری ہوگئی۔ابوعبیدہ و معاذ بن جبل روتے روتے بیتاب ہو گئے ، حضرت عمر کی پیچکی بندھ گئی اور دیر تک یہ اثر رہا۔حضرت عمرؓ کی آنحضرت کے ساتھ انتہائی محبت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا واقعہ رونما ہوا تو آپ کو یقین نہ آتا تھا اور حضرت عمر 45 حالت وارفتگی میں بار بار کہتے تھے کہ جو کہے گا حضور فوت ہو گئے ہیں میں اس کا سرتن سے جدا کر دوں گا۔محبوب کا عزیز بھی عزیز ہوا کرتا ہے۔حضرت عمر نے اپنے خلافت کے قیام میں صحابہ کے جو وظائف مقرر کئے ان میں اسامہ بن زید کا وظیفہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے زیادہ تھا۔اسی طرح جب مدائن کی فتح کے بعد مال غنیمت آیا تو حضرت عمر نے حضرت حسن اور حضرت حسین کو ہزار ہزار درہم دیئے جبکہ اپنے بیٹے عبداللہ کو صرف ۵۰۰ درہم ، حضرت عبداللہ نے کہا کہ اس وقت یہ دونوں بچے تھے جب میں حضور کے ساتھ غزوات میں شامل ہوا۔حضرت عمرؓ نے فرمایا: درست لیکن ان کے بزرگوں کا جو رتبہ ہے وہ تیرے باپ دادا کا نہیں۔اتباع سنت (مستدرک) آپ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی کرنے کا خاص اہتمام فرمایا کرتے۔ایک مرتبہ جب حج کے لئے تشریف لے گئے تو حجر اسود کو بوسہ دیا اور اس کے ساتھ فرمایا: میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے۔نہ نقصان پہنچا سکتا ہے نہ نفع ، اگر میں رسول اللہ کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھتا تو تجھے ہرگز بوسہ نہ دیتا۔“ حضرت عمرؓ قبا میں رہائش رکھتے تھے جو کہ مدینہ سے کچھ فاصلے پر تھا۔روزانہ مدینہ آنا ممکن نہ ہوا کرتا۔چنانچہ حضرت عمر نے اپنے دینی بھائی حضرت عتبان بن مالک کے ساتھ یہ مستقل طے کیا ہوا تھا کہ ایک دن حضرت عمرؓ مدینہ تشریف لائیں گے اور حضور کی مجلس میں رہیں گے اور دوسرے دن حضرت عتبان بن مالک آئیں گے اور وہ حضور کی مجلس میں رہیں گے۔اس طرح دونوں باری باری حضور کے پاس ہوتے اور پھر ایک دوسرے کو حضور کے