سیرۃ و سوانح حضرت عمرؓ — Page 14
24 جمع قرآن حضرت عمر اس زمانہ میں کاغذ نہیں ہوتا تھا اورتحریر لکھنے کیلئے مختلف اشیاء مثلاً پتھر کی سلیں، درختوں کی چھال اور چمڑے کو استعمال کیا جاتا تھا۔اسی وجہ سے قرآن مجید بھی اس وقت مختلف اشیاء پر لکھا ہوا تھا اور ایک جگہ پر اکٹھانہ لکھا تھا۔لیکن یہ ضرور تھا کہ کثیر التعدادصحابہ نے اسے اصل ترتیب سے حفظ کر رکھا تھا اور اس طرح قرآن مجید بالکل محفوظ تھا۔حضرت ابوبکرؓ کے عہد خلافت میں باغیان اسلام کے خلاف کئی جنگیں لڑیں گئیں۔ان جنگوں کے نتیجہ میں بہت سے حفاظ قرآن شہید ہوئے۔خصوصاً یمامہ کی جنگ میں اس قدر صحابہ شہید ہوئے کہ حضرت عمرؓ کو اندیشہ ہوا کہ شہادتوں کا یہی سلسلہ قائم رہا تو قرآن کریم کا بہت سا حصہ ضائع ہی نہ ہو جائے۔چنانچہ حضرت عمر نے حضرت ابو بکر کو قرآن کریم ایک جلد میں جمع کرنے کا مشورہ دیا۔شروع میں تو حضرت ابوبکر کو پوری طرح انشراح نہ تھا مگر حضرت عمر نے یہ مشورہ اس قدر تکرار سے دیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس عظیم الشان کام کے لئے حضرت ابوبکر کا سینہ کھول دیا اور آپ نے حضرت عمر کے مشورے سے حضرت زید بن ثابت انصاری کو جو آنحضرت کے کاتب وحی رہ چکے تھے حکم دیا کہ وہ قرآن مجید کو با قاعدہ ایک کتاب کی صورت میں اکٹھا لکھوا کر محفوظ کر دیں۔چنانچہ زید بن ثابت انصاری نے بڑی محنت کے ساتھ ہر آیت کے متعلق زبانی اور تحریری ہر دو قسم کی پختہ شہادت مہیا کر کے اسے ایک باقاعدہ کتاب کی صورت میں اکٹھا کر دیا۔حضرت عمرؓ کے متعلق صحابہ کی رائے حضرت ابو بکر کو اس بات کا یقین تھا کہ خلافت کا بارگراں حضرت عمرؓ کے سوا اور کسی حضرت عمر 25 سے اٹھ نہیں سکتا لیکن پھر بھی وفات کے قریب انہوں نے عام رائے کا اندازہ کرنے کے لئے اکابر صحابہ سے مشورہ کیا۔سب سے پہلے عبدالرحمن بن عوف کو بلا کر پوچھا۔انہوں نے کہا عمر کی قابلیت میں کیا کلام ہے لیکن مزاج میں سختی ہے۔حضرت ابو بکر نے فرمایا کہ ان کی سختی اس لئے تھی کہ میں نرم تھا۔جب کام ان پر ہی آپڑے گا تو خود بخو دنرم ہو جائیں گے۔پھر حضرت عثمان کو بلا کر پوچھا انہوں نے کہا کہ میں اس قدر کہہ سکتا ہوں کہ عمر کا باطن ظاہر سے اچھا ہے اور ہم لوگوں میں ان کا جواب نہیں۔اس طرح حضرت ابوبکر صدیق نے بعض اور صحابہ سے مشورہ کر کے حضرت عمرؓ کو اپنے بعد خلیفہ نامزد کر دیا۔