سیرۃ و سوانح حضرت عمرؓ — Page 18
32 حضرت عمر حالات زندگی آنحضور ﷺ پر غیب سے ظاہر فرما دیئے اور آپ نے اسے فرمایا۔سراقہ اُس وقت تیرا کیا حال ہوگا جب شہنشاہ ایران کے سونے کے کنگن تیرے ہاتھ میں ہوں گے۔سراقہ نے حیران ہو کر کہا کسری بن ہرمز شہنشاہ ایران کے؟ آپ نے فرمایا ہاں! وہ حیرت اور استعجاب کا مجسمہ بن کر واپس چلا آیا مگر اللہ تعالیٰ کی شان دیکھو کہ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں جب ایران فتح ہوا اور اس کے خزانے مسلمانوں کے قبضے میں آئے تو ان میں وہ کڑے بھی تھے جو شہنشاہ ایران تخت پر بیٹھتے وقت اپنے ہاتھوں میں پہنا کرتا تھا اور جو ہیروں اور جواہرات سے لدے ہوئے تھے۔حضرت عمرؓ کے سامنے جب یہ کڑے رکھے گئے تو آپ کو فور ارسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ پیشگوئی یاد آ گئی اور آپ نے فرمایا سراقہ کو بلاؤ۔سراقہ آئے ، حضرت عمرؓ نے کہا کہ کسریٰ کے کنگن لو اور اپنے ہاتھوں میں پہنو۔چنانچہ سراقہ نے وہ کنگن لے کر اپنے ہاتھوں میں ڈالے اور اس طرح مسلمانوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس عظیم الشان پیشگوئی کو اپنی آنکھوں سے پورا ہوتے دیکھا۔( تفسیر کبیر جلد ششم صفحه ۴۵۳ - ۴۵۴) يَا سَارِيَةُ الْجَبَلَ ایران کی لڑائیوں کے سلسلے کا یہ مشہور واقعہ ہے کہ ایک جگہ پر مسلمانوں نے کافروں کو گھیرا ہوا تھا۔حضرت ساریہ مسلمان فوجوں کے سپہ سالار تھے۔ایک دن جب کافروں کو باہر سے مدد لی تو انہوں نے مسلمانوں پر اچانک حملہ کر دیا۔اس حملے کے نتیجے میں مسلمانوں کو شدید نقصان ہو سکتا تھا۔حضرت عمرؓ جو اس وقت مدینہ میں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ان کو کشفاً یہ نظارہ دکھایا گیا۔انہوں نے دوران خطبہ اونچی آواز میں فرمایا۔يَا سَارِيَةُ الْجَبَلَ یعنی ساریہ پہاڑ کی طرف ہٹ جاؤ ، ساریہ پہاڑ کی طرف ہٹ جاؤ۔خدا کی قدرت کہ یہ حضرت عمر 33 آواز جو مدینہ سے اٹھ رہی تھی ایران میں ہزاروں میل کی مسافت پر حضرت ساریہ اوران کی فوج نے سنی اور پہاڑ کی طرف ہٹ گئے اور اس کے ساتھ ہی مسلمان جنگ جیت گئے۔فتح شام حضرت عمر کمسند خلافت پر متمکن ہوئے تو اس وقت دمشق محاصرہ میں تھا۔حضرت خالد بن ولید نے اپنی جنگی مہارت کی وجہ سے اس کو فتح کر لیا۔رومی دمشق کی شکست کی وجہ سے سخت برہم ہوئے اور ہر طرف سے فوجیں جمع کر کے مقام بیسان میں مسلمانوں کے مقابلہ کے لئے جمع ہوئے۔مسلمانوں نے فحل مقام پر پڑاؤ ڈالا۔خونریز معرکہ پیش آیا اور دشمن کے پاؤں اکھڑ گئے۔اس طرح مسلمان اردن کے تمام مقامات پر قابض ہو گئے۔فتوحات کا یہ سلسلہ بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ مسلمانوں نے ہر قل کے پایۂ تخت انطاکیہ کا رخ کیا مگر حضرت عمرؓ نے حکم دیا کہ اس سال آگے بڑھنے کا ارادہ نہ کیا جائے۔خطرناک وبا کا پھیلنا کا چھ میں شام، مصر اور عراق کے علاقوں میں نہایت ہی خوفناک اور جان لیوا بیماری پھیلی جس نے تھوڑے ہی عرصہ میں کثیر تعداد میں لوگ فوت ہوئے۔حضرت عمرؓ کو جب یہ خبر پہنچی تو اس کی تدبیر اور انتظام کے لئے خود روانہ ہوئے۔سرخ کے مقام پر پہنچ کر سپہ سالار حضرت ابو عبیدہ بن الجراح سے معلوم ہوا کہ بیماری کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے۔مهاجرین وانصار کو بلایا اور رائے طلب کی مہاجرین نے یک زبان ہو کر کہا کہ آپ کا یہاں ٹھہر نا مناسب نہیں۔حضرت عمرؓ نے حضرت عباس کو حکم دیا کہ پکار دے دیں کہ کل کوچ کے لئے تیار رہیں۔