حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ

by Other Authors

Page 14 of 21

حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ — Page 14

25 24 سیرت کے مالک تھے اور اس کا اظہار اللہ تعالیٰ نے کئی رنگ میں کر دیا۔جب آپ 14 نومبر 1901ء کو قادیان تشریف لائے تو اس سفر کے بارے میں آپ بے تکلفانہ انداز میں اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں۔گیارہ بجے بٹالہ پہنچے فوراً رتھ پر سوار ہو کر قادیان کو روانہ ہوئے ، رتھ کے ہچکولے کھاتے ، گرد پھانکتے روانہ ہوئے۔قادیان پہنچے آرزو دارم که خاک آن قدم رکھوں) طوطیائے چشم سازم دم بدم ( ترجمہ: میری خواہش ہے کہ اس قدم کی خاک کو مسلسل آنکھ میں سموئے کتنے اخلاص سے پُر اعلیٰ درجہ کے جذبات ہیں، آپ کے یہ الفاظ آپ کی سیرت کا بہترین اور روشن ترین پہلو ظاہر کرتے ہیں اور ان الفاظ کی شان اور بھی بلند ہو جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ یہ جذبات وقتی کیفیت کا عکس نہیں تھے بلکہ دل کی گہرائیوں سے خلوص کا اظہار تھا کیونکہ حضرت نواب صاحب کی ہر حرکت وسکون آپ کے ان جذبات و خیالات کی عملی تفسیر تھی۔دو حضرت اقدس آپ کے خاندان کا تذکرہ یوں فرماتے ہیں: بہادر خان کی نسل میں یہ جوان صالح ، خلف رشید، نواب غلام محمد خان صاحب مرحوم ہے۔جس کا عنوان میں ہم نے نام لکھا ہے۔خدا تعالیٰ اس کو ایمانی امور میں بہادر کرے اور اپنے جد شیخ بزرگوار صدر جہان کے رنگ میں لا وے۔سردار محمد علی خان صاحب نے گورنمنٹ برطانیہ کی توجہ اور مہربانی سے ایک شائستگی بخش تعلیم پائی جس کا اثر ان کے دماغی اور دلی قومی پر نمایاں ہے۔ان کی خدا دا د فطرت بہت سلیم اور معتدل ہے اور باوجود معین شباب کے کسی قسم کی حدت اور تیزی اور جذبات نفسانی ان کے نزدیک آئی معلوم نہیں ہوتی۔میں قادیان میں جب وہ ملنے کے لئے آئے تھے اور کئی دن رہے، پوشیدہ نظر سے دیکھتا رہا ہوں کہ التزام ادائے نماز میں ان کو خوب اہتمام ہے اور صلحاء کی طرح توجہ اور شوق سے نماز پڑھتے ہیں اور منکرات اور مکروہات سے بکلی مجتنب ہیں۔مجھے ایسے شخص کی خوش قسمتی پر رشک ہے جس کا ایسا صالح بیٹا ہو کہ باوجود بہم پہنچنے تمام اسباب اور وسائل غفلت اور عیاشی کے اپنے عنفوان جوانی میں ایسا پر ہیز گار ہو۔معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے بتو فیقہ تعالیٰ خود اپنی اصلاح پر زور دے کر رئیسوں کے بے جاطریقوں اور چلنوں سے نفرت پیدا کر لی ہے اور نہ صرف اسی قدر بلکہ جو کچھ نا جائز خیالات اور اوہام اور بے اصل بدعات شیعہ مذہب میں ملائی گئی ہیں