حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ — Page 8
13 12 ہوتا تو والد صاحب اپنے کمرے میں بلا لیتے اور ہم زمین پر بستر کرکے سوتے۔ہجرت قادیان، حضرت نواب صاحب اور آپ کے خاندان کے لئے کوئی معمولی قربانی نہ تھی۔حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت والد صاحب سے پوچھا کہ آپ اتنے بڑے محل کو چھوڑ کر ایک تنگ کمرے میں جو آئے تو کیا وجہ تھی؟ فرمانے لگے کہ وہ زمانہ ایسا تھا کہ حضرت مسیح موعود کو داغ ہجرت کا الہام ہو چکا تھا۔گورنمنٹ بھی ہماری مخالف تھی اور لوگوں کی مخالفت بھی زدوروں پر تھی تو میں نے مالیر کوٹلہ اس عزم وارادہ سے چھوڑا کہ اب وہاں واپس نہیں جانا۔اسلئے مجھے کسی قسم کی تنگی اور تکلیف کا احساس نہ ہوا۔(( رفقاء ) احمد جلد دوم ص 130) حضرت اقدس کی مہمان نوازی حضرت مسیح موعود آپ سے بہت شفقت اور محبت کا سلوک فرمایا کرتے تھے۔حضرت نواب صاحب نے بڑی کوشش کی کہ حضور اجازت دیں کہ کھانے کا انتظام اپنا کریں اور عرض کیا کہ میرے پاس باورچی ہیں لیکن حضور نہ مانے اور تقریباً چھ ماہ تک حضور کے ہاں سے کھانا آتا رہا جس کا انتظام حضرت اماں جان خود فرماتیں۔پھر یہاں تک ہی بس نہیں حضور نواب صاحب کے خدام سے بھی دریافت فرمایا کرتے کہ نواب صاحب کون سا کھانا شوق اور رغبت سے کھاتے ہیں پھر وہ کھانا بھجواتے۔مہمان نوازی اعلیٰ درجہ کی تھی جو برابر چھ ماہ تک رہی۔اتنے لمبے عرصہ کی مہمان نوازی کے بعد حضور نے بمشکل کھانے کا اپنا انتظام کرنے کی اجازت دی ورنہ حضور یہی پسند فرماتے تھے کہ یہ مہمان نوازی بدستور جاری رہے۔چھ ماہ تک پانچ پانچ چھ چھ کھانے حضور کے ہاں سے روزانہ تیار ہوکر آتے تھے۔حضرت نواب صاحب اپنے طور پر لنگر خانہ کے لئے رقم دے دیتے تھے تا کہ تا سلسلہ پر بوجھ نہ ہو۔حضرت مسیح موعود کی شفقت بے پایاں کا گونا گوں رنگ میں اظہار ہوتا رہتا تھا۔حضرت مسیح موعود نے حضرت نواب صاحب کو قادیان میں مکان بنانے کی بھی کئی مرتبہ تحریک فرمائی۔اللہ تعالیٰ نے آپ کے مکانات کو بہت برکت عطا فرمائی۔پہلی بیوی کی وفات جیسا کہ پہلے ذکر گزر چکا ہے کہ حضرت نواب صاحب کی شادی اپنی خالہ زاد محتر مہ مہر النساء بیگم سے ہوئی تھی، وہ بہت شریف اور منتظم خاتون تھیں۔ان کی وفات نومبر 1898ء میں ہوئی۔حضرت مسیح موعود نے مرحومہ کا جنازہ غائب پڑھا تھا اور حضور نے مرحومہ کے غریق رحمت ہونے کی دعا اپنے تعزیتی مکتوب