حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ — Page 4
5 ما 4 خاندانی حالات حضرت نواب محمد علی خان صاحب کا تعلق ایک معزز خاندان غوری سے ہے۔آپ ریاست مالیر کوٹلہ کے رئیس تھے۔آپ کے مورث اعلیٰ شیخ صدر جہاں صاحب ایک با خدا بزرگ اور جلال آبادسروانی قوم کے پٹھان تھے۔آپ کے والد ماجد کا نام نواب غلام محمد خان صاحب تھا۔ولادت و ابتدائی حالات حضرت نواب محمد علی خان صاحب یکم جنوری 1870ء کو اپنے والد کی چوتھی بیگم نواب بیگم صاحبہ بنت سردار خان صاحب کے بطن سے پیدا ہوئے۔آپ اپنی والدہ کے پہلے اور بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھے۔دو بڑے بھائی خان احسن علی خان صاحب اور خان باقر علی خان صاحب بڑی والدہ کے بطن سے تھے اور حضرت نواب صاحب سے کافی بڑے تھے۔آپ کی والدہ بہت شفیق تھیں اور صفائی کا بہت خیال رکھتیں۔آپ کو اپنے والد سے بے حد محبت تھی۔آپ کی عمر بھی ساڑھے سات سال تھی جب وہ وفات پاگئے۔آپ کو اپنے والد کا زمانہ، ان کی شکل وصورت، ان کی باتیں بہت اچھی طرح یاد تھیں۔اپنے والد کو میاں کہتے تھے اور اسی نام سے ان کا ذکر بہت محبت سے فرماتے۔والد گرامی کا طریق تربیت نہایت اعلیٰ تھا اور بہت عمدہ اخلاق کے مالک تھے، سخاوت اور وسعتِ حوصلہ حضرت نواب صاحب نے انہی سے ورثہ میں پایا تھا۔باوجود بے حد محبت کے آپ کے والد کا آپ پر بہت رعب تھا۔ان کی مرضی کے خلاف کوئی بات بچپن میں بھی آپ نہیں کر سکتے تھے۔طرح طرح کے کھلونے اور دلچسپی کی چیزیں وہ آپ کے لئے مہیا کرتے ، اپنے سامنے کھیل کھلواتے اور خوش ہوتے۔آپ کے والد روپے دیتے کہ اپنے نوکروں میں تقسیم کردو۔اکثر آپ کے ہاتھ سے چیزیں تقسیم کرواتے کہ اس سے دوسروں کی مدد کی عادت پڑتی ہے۔بہت سے خادم لڑکے آپ کے ساتھ ہی پرورش پاتے اور ساتھ ہی کھیلتے تھے۔ایک دفعہ آپ نے اپنے استاد کی غیر موجودگی میں اپنے قیمتی کپڑے نکال کر خادم لڑکوں میں تقسیم کر دیئے بلکہ ان کو پہنا دیئے۔تعلیم جب آپ چھ سات سال کی عمر کو پہنچے تو آپ کے والد ماجد نے اس زمانہ کے سب سے اعلیٰ تعلیمی ادارے چیفس کا لج انبالہ میں بھیجا جہاں رؤسائے پنجاب کے بچے زیر تعلیم رہے تھے۔آپ کے ساتھ ملازم، اتالیق گھوڑے اور سواری الغرض کافی عملہ بھیجا گیا تھا۔وہاں تینوں بھائی بڑی شان وشوکت سے رہتے تھے۔انبالہ اور لاہور کی بے قاعدہ تعلیم کی وجہ سے آپ بیرسٹری کے لئے یورپ نہ جاسکے۔