حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ — Page 3
3 2 ماحول میں پاکیزہ اطوار رکھنے والی ہستی جس نے اپنے وسیع محلات کو چھوڑ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قرب میں اور چند فٹ کی کوٹھڑی میں رہائش پسند کی۔وہ جو دوسخا میں اپنا ثانی نہ رکھنے والی ہستی جس نے اس کثرت اور اس وسعت سے اپنے اموال احمدیت کو تقویت پہنچانے اور غرباء کی امداد کرنے کے لئے صرف کئے کہ ابتدائی زمانہ میں اس کی مثال نہیں ملتی یعنی حضرت نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کے متعلق نہایت ہی تعریفی کلمات استعمال فرمائے ہیں جو قیامت تک قائم رہیں گے۔اور نہ صرف آپ کے متعلق بلکہ آپ کے والد ماجد کے متعلق یہاں تک رقم فرمایا کہ مجھے ایسے شخص کی خوش قسمتی پر رشک ہے جس کا ایسا صالح بیٹا ہو۔یہی نہیں بلکہ خود اللہ تعالیٰ نے حضرت نواب صاحب کو حضرت مسیح موعود کے ذریعہ حجۃ اللہ کے لقب سے نوازا۔حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے آپ کو وہ مرتبہ اور وہ شان عطا کی جو کسی اور کو حاصل نہیں ہو سکتی۔آپ کی نیکی ، اخلاص، تقویٰ وطہارت اور پاکبازی کی خدا تعالی نے ایسی قدردانی کی جو قیامت تک کسی اور کو حاصل نہیں ہو سکتی۔خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں بڑے بڑے رؤساء، نواب، والیان ریاست اور ملکوں کے بادشاہ داخل ہوئے ہیں اور انشاء اللہ آئندہ بھی ہوتے چلے جائیں گے مگر کسی کو وہ رتبہ کہاں حاصل ہوسکتا ہے جو حضرت نواب صاحب کو ہوا۔آپ نے حضرت مسیح موعود کی صحبت میں رہنے کا سالہا سال تک شرف حاصل کیا اور آپ کے مقرب رفیق بنے۔آپ نے دین کی خاطر اپنے اموال بے دریغ صرف کئے۔آپ کی تعریف و توصیف جن الفاظ میں حضرت مسیح موعود نے کی وہ کسی اور کو کب میسر آسکے گی۔پھر آپ کو حضرت مسیح موعود کی دامادی کا جو شرف حاصل ہوا اور حضور کی جگر گوشہ حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کا مبارک وجود آپ کے کاشانہ کی رونق بنا، یہ کتنا بڑا انعام ہے۔پھر حضرت مسیح موعودؓ کی دوسری صاحبزادی حضرت نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کا نکاح آپ کے نہایت نیک اور پارسا صاحبزادے حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب سے ہوا۔قادیان میں ہجرت کر کے آپ نے صبر، استقلال، فدائیت اور جان نثاری کی اعلیٰ مثال قائم کی اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ اور اپنے مال کا بہت بڑا حصہ خدا تعالیٰ کے لئے اس کی مخلوق کی ہدایت اور اس کی پرورش کے لئے خرچ کر دیا۔حتی کہ آخری سانس بھی اسی پاک سرزمین میں لیا جہاں خدا تعالی کی خاطر شاہانہ شان وشوکت چھوڑ کر آپ نے دھونی رمائی تھی۔جس طرح آپ کی جوانی قابل رشک تھی، جس طرح آپ کی آخری وقت تک کی زندگی قابل رشک تھی ، اس سے بھی بڑھ کر آپ کا انجام قابل رشک ہے۔