حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ

by Other Authors

Page 15 of 21

حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ — Page 15

27 26 اور جس قدر تہذیب اور صلاحیت اور پاک باطنی کے مخالف ان کا عمل درآمد ہے ان سب باتوں سے بھی اپنے نور قلب سے فیصلہ کر کے انہوں نے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔“ (ازالہ اوہام حصہ دوم روحانی خزائن جلد 3 ص 526) خلیفہ اول سے عقیدت ومحبت حضرت نواب صاحب حضرت خلیفہ المسیح الاول سے حد درجہ اخلاص اور اطاعت کا تعلق رکھتے تھے۔اسی کا نتیجہ تھا کہ آخری دو ہفتے نواب صاحب کو حضور کی عیادت وخدمت کا بہترین موقع میسر آیا۔ڈاکٹروں نے قصبہ سے باہر کسی کھلی جگہ رہنے کا مشورہ دیا۔حضرت نواب صاحب نے اپنی کوٹھی دار السلام کا ایک حصہ حضور کے لئے خالی کر دیا۔حضرت خلیفہ اول نے 27 فروری 1914 ء کو یہاں نقل مکانی فرمائی۔اور اس جگہ کو بہت پسند فرمایا۔دو ہفتے بعد 13 / مارچ 1914ء کو حضرت خلیفہ اول نے دار السلام میں ہی وفات پائی۔حضرت نواب صاحب کا جماعت میں مقام حضرت نواب صاحب کا مقام جماعت احمدیہ میں بہت بلند ہے۔1918ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے اپنی ایک وصیت میں خلیفہ کا انتخاب کرنے والی کمیٹی کا نواب صاحب کو صدر مقرر فر مایا تھا۔حضرت خلیفہ اول سے آپ کو حد درجہ محبت و عقیدت تھی۔خلافت اولی اور ثانیہ کے قیام میں آپ کی سعی بلیغ اور مساعی جمیلہ تاریخ احمدیت کا سنہری باب ہیں۔آپ اعلیٰ درجہ کے علمی ذوق کے مالک تھے۔علم دوست ہونے کی وجہ سے آپ کو ہر قسم کی کتب رکھنے کا بے حد شوق تھا۔اور کتابوں سے بہت محبت تھی۔آپ قابل اور عالم اشخاص کی قدر کرتے اور ان کے ساتھ عزت سے پیش آتے۔حضرت نواب صاحب کو بچوں کی تعلیم وتربیت کے لئے ابتدائی رسالے تالیف کرنے کا شوق تھا، آپ نے اردو اور عربی قواعد تالیف فرمائے۔انکساری اور فروتنی حضرت نواب صاحب کی طبیعت میں بہت انکسار تھا۔بیت الذکر میں نماز کے لئے تشریف لاتے تو عموماً سب سے آخری صف میں جوتیوں کے قریب بیٹھ جاتے۔اگر حضرت مسیح موعود ارشاد فرماتے تو آگے چلے جاتے۔حضرت نواب صاحب کے دل میں حد درجہ فروتنی کے باعث آپ کا دل غرباء ، ملازمین اور ضرورتمندوں کے لئے جذبات محبت و شفقت سے پُر رہتا تھا۔آپ انہیں اپنے جیسا انسان خیال کرتے تھے اور ان سے حسن سلوک سے پیش آتے تھے۔