حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ — Page 11
19 18 حضرت نواب صاحب چھوٹی چھوٹی بات میں بھی حضرت بیگم صاحبہ سے برکت لینے کی کوشش کرتے۔ایک مرتبہ نئے سال کا کیلنڈر آپ نے حضرت بیگم صاحبہ کو دیا کہ اس پر کوئی شعر لکھ دیجئے۔حضرت بیگم صاحبہ نے کیلنڈر کے سرورق پر لکھا: فضل خدا کا سایہ ہم پر رہے ہمیشہ ہر دن چڑھے مبارک ہر شب بخیر گزرے آپ فرماتی ہیں کہ یہ شعر حضرت نواب صاحب ہمیشہ نئے سال کے کیلنڈر کے سرورق پر لکھتے تھے۔اسی طرح حضرت نواب صاحب اکثر آپ سے اشعار کی فرمائش کرتے اور آپ میاں بیوی ہونے کے باوجود دنیا کے فرسودہ اور فانی محبت کے اشعار کی بجائے عشق حقیقی کے اور دعائیہ اشعار فارسی اور اردو میں کہتیں جن کو حضرت نواب صاحب بہت پسند کرتے تھے۔حضرت نواب صاحب حضرت بیگم صاحبہ کی بہت عزت ، محبت اور قدر کرتے۔ان کی ادنیٰ سے ادنی اور بڑی سے بڑی خواہش کا احترام کرتے ان کی ہر بات پوری کرتے۔کوئی اور بیوی ہوتی تو یقیناً مغرور ہو جاتی اور شوہر کے حقوق اور محبت اور عزت میں کوتاہی کرنے لگتی اور اپنی بڑائی کا خیال پیدا ہو جاتا۔مگر حضرت بیگم صاحبہ نے اس بے تکلفی اور اپنی عزت افزائی کے باوجود حضرت نواب صاحب کا ہمیشہ بے حد ادب کیا ، بے انتہا محبت اور عزت کی۔جن باتوں کو وہ پسند نہ کرتے تھے ان کا ہمیشہ خیال رکھا۔اس حسن سلوک کی مثال بہت کم ملتی ہے۔آپ کی بابرکت تعمیرات حضرت مسیح موعود حضرت نواب صاحب کو بار ہا قادیان آنے اور قادیان میں مکان بنانے کی تحریک فرما چکے تھے۔چنانچہ حضرت نواب صاحب نے ہجرت سے پہلے ایک دو کچے کمرے دار اسیح سے ملحق جانب مشرقی تعمیر کروائے اور چند سال بعد انہیں گرا کر ایک پختہ چوبارہ تعمیر کروایا۔یہ چوبارہ حضرت اقدس علیہ السلام کی پرانی ڈیوڑھی کے اوپر ہے اس لئے ”الدار کا ہی حصہ ہے۔خلافت اولی میں آپ نے قادیان کی اس وقت کی آبادی سے باہر ایک کھلی جگہ پر دار السلام کو بھی تعمیر کروائی جس میں باغ بھی لگوایا۔یہ کوٹھی اور باغ بہت بڑا تھا۔حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ فرماتی ہیں کہ قادیان کی کوٹھی کا نام " دار السلام" مالیر کوٹلہ کے شہر والے بڑے مکان کا نام ”دار الفضل“ اور شیروانی کوٹ والی کوٹھی کا نام دارالاحسان حضرت نواب صاحب نے رکھے۔یہ چوبارہ جو الدار‘ کا ہی حصہ ہے حضرت مسیح موعود کی لخت جگر حضرت سید و نواب مبار کہ بیگم صاحبہ کے رخصتنانہ کے ساتھ بابرکت ہوا۔کوٹھی ” دار السلام حضرت خلیفتہ اسی الاول کے بار بار وہاں جانے ، مرض الموت میں وہاں قیام اور خلافت کے قیام کے مشوروں اور حضرت مسیح موعود کی دو صاحبزادیوں کی لمبی رہائش سے بابرکت ہوئی۔