حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب ؓ

by Other Authors

Page 6 of 22

حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب ؓ — Page 6

9 00 8 اپنی رحمت اور شفقت کا سلوک نہیں چھوڑا۔بار بار مجھے اور میری بیوی کو بشارات دے کر میری ڈھارس بندھاتا رہا۔خاندان مسیح موعود سے محبت حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب کو اللہ تعالیٰ نے جس رحمت اور برکت سے نوازا اس پھر انہی دنوں میں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ مصیبت اور مشکلات میں تیری ناراضگی کا موجب تو نہیں۔اگر میری کوتاہی کی وجہ سے ہیں تو مجھے آگاہ کرتا کہ میں کو کبھی بھی آپ نے اپنی طرف منسوب نہیں کیا بلکہ ان سارے انعاموں کو حضرت اماں جان کی اصلاح کروں۔میرے پیارے مولیٰ نے ایک رات میری زبان پر یہ الفاظ جاری کئے۔وَالضُّحَى وَ الَّيْلِ إِذَا سَجَى مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلَى وَ لَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَكَ مِنَ الْأُولَى وَلَسَوْفَ يَعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَی که الله تعالیٰ نے عروج و زوال انسان کے ساتھ رکھے ہوئے ہیں۔وہ نہ تجھ پر ناراض ہوا ہے اور نہ تجھ کو اس نے چھوڑا ہے۔عنقریب تیرا رب تجھے اس قدر دے گا کہ تو راضی ہو جائے گا۔یہ الفاظ میں نے اس وقت سنے جبکہ یہ زمین وسعت کے باوجود میرے لئے تنگ تھی۔ہر طرف مایوسی ہی مایوسی نظر آتی تھی لیکن میں ان مشکلات اور مصائب میں پہاڑ کی طرح کھڑا تھا۔اللہ تعالیٰ کی رحمت وکرم کا امیدوار تھا۔آخر خدا تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کیا۔“ شاکر بندہ حضرت نواب عبد اللہ خان صاحب اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعماء کا شکر ادا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا کس قدر احسان ہے کہ اس نے نہ صرف مجھے دنیا ہی نہیں دی بلکہ اپنے بے شمار رحم اور کرم فرما کر حقیقی معنوں میں مجھے عبداللہ بنا دیا۔آج میرا دل شکریہ اور اس کی محبت میں لبریز ہے، میرا دل چاہتا ہے کہ جو کچھ میرا ہے وہ سب کچھ اسی کی خاطر قربان ہو جائے اور میں اسی کا ہو کر رہ جاؤں۔“ (( رفقاء ) احمد جلد 12 صفحہ 68) دعاؤں کی برکت قرار دیا۔اپنے ایک مکتوب میں فرماتے ہیں کہ در اصل اماں جان انہیں ( حضرت امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ۔ناقل ) کی اماں نہیں ہیں بلکہ میری بھی اماں ہیں۔میرے ساتھ جو محبت اور پیار کا سلوک انہوں نے کیا ہے اپنے ساتھ ایک داستان رکھتا ہے۔جب میری شادی ہوئی تو مجھے ایک عورت کے ہاتھ کہلا کر بھیجا کہ میاں کی عمر زیادہ تھی یعنی میرے والد کی۔تم چھوٹی عمر والے داماد ہو۔تم مجھ سے شر مایا نہ کروتا جو کمی رہ گئی ہے اس کو پورا کر سکوں۔پھر آپ نے حقیقی ماں بن کے دکھایا۔“ (( رفقاء) احمد جلد 12 صفحہ 69 حاشیہ) حضرت اماں جان سے حضرت نواب صاحب کو بے حد انس تھا۔جب آپ ان کے گھر تشریف لاتیں تو یوں معلوم ہوتا کہ گویا نواب صاحب کے لئے عید کا چاند نکل آیا ہے۔فور اسب کو بلاتے کہ اماں جان آئی ہیں یہ لاؤ وہ لاؤ، کسی کو کہتے کہ پاؤں دباؤ اور چہرے سے خوشی چھپائے نہ چھپتی تھی۔اسی جذ بہ تشکر اور محبت کی وجہ سے اپنے خرید کردہ رقبہ کا نام حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب نے بعد از اجازت حضرت اماں جان کے نام مبارک پر نصرت آباؤ رکھا۔حضرت مسیح موعود کی صاحبزادیوں کے متعلق فرمایا کہ دو میں اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود کی دو بیٹیوں کا خادم سمجھتا ہوں۔میری ساری کوشش اور محنت صرف اس لئے ہے کہ اس پاک وجود کے جگر پارے آرام پائیں جن میں سے اللہ تعالیٰ نے ایک کو میرے والد اور ایک کو میرے سپرد کیا۔“