حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب ؓ

by Other Authors

Page 4 of 22

حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب ؓ — Page 4

5 4 نے کہا ”حضرت مسیح موعود کے گھر میں“۔وہ پاک جذبات جن کے تحت یہ رشتہ ہوا ہو جائیں گی اس وقت اس کی بابت گفتگو کی جائے گی۔پھر تحریر کیا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الاول مولانا نورالدین صاحب نے بھی اس رشتہ کے حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے اپنے بیٹے حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب کو متعلق اشارہ فرمایا تھا۔تحریر فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ تمہارا رشتہ امتہ الحفیظ حضرت مسیح موعود کی صاحبزادی سے ہو اور یہ مجھ کو اس لئے تحریک ہوئی کہ اس وقت دوسرے بھائیوں کی نسبت تمہیں دین کا شوق ہے رشتے کے بعد حضرت مسیح موعود یا (خاندان) مسیح موعود سے تعلق رشتہ کو موجب برکت و فخر سمجھنا چاہئے اور اپنے آپ کو وہی من آنم کہ من دانم سمجھنا چاہئے۔میں نے رشتہ کیا برابری کا خیال بالکل دل سے نکال دیا۔جس طرح حضرت اقدس کی عزت کرتا تھا وہی عزت و ادب بعد رشتہ رہا ہے اور جس طرح حضرت ( اماں جان ) کا ادب و عزت کرتا تھا اسی طرح اب مجھ کو عزت اور ادب ہے اور اس سے بڑھ کر۔اسی طرح جس طرح اس پاک وجود کے ٹکڑوں کی میں پہلے عزت کرتا تھا ویسی اب ہے۔اگر یہ طرز تم بھی برت سکو تو پھر اگر تمہاری منشاء ہو تو میں اس کی تحریک بعد استخارہ کروں۔ورنہ ان پاک وجودوں کی طرف خیال لے جانا بھی گناہ ہے۔“ حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب کا بیان ہے کہ مجھے چونکہ پہلے خواب بھی آچکا تھا اور اس سے بڑھ کر میری اور کیا خوش قسمتی ہو سکتی تھی کہ میرا رشتہ حضور کے ہاں ہو۔میں نے والد صاحب کی تمام شرائط کو مانتے ہوئے ہاں کہہ دی۔پس بعد از استخارہ حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے رشتہ کی درخواست حضرت مصلح موعود کی خدمت میں کی اور رشتہ کرنے کے محرکات کا ذکر کرتے ہوئے تحریر کیا کہ حضرت اقدس نے فرمایا تھا کہ والدہ محمود نے تو خواب میں دوسرے بچے عبداللہ خان کو دیکھا ہے۔اور فر مایا تھا که سر دست جب تک مبارکہ رخصت نہ ہولے اس بارہ میں گفتگو نہیں ہوسکتی جب مبارکہ رخصت جواب میں حضرت مصلح موعود نے تحریر فرمایا کہ عزیز عبد اللہ خان نہایت نیک اور صالح نو جوان ہے اور اس کے متعلق ہمیں کسی قسم کا اعتراض نہیں بلکہ ہم سب اس رشتہ کو پسند کرتے ہیں اور خوش ہیں کہ اللہ تعالیٰ توفیق دے تو یہ رشتہ ہو جائے۔“ چنانچہ 7 جون 1915ء کو بروز دوشنبه بعد از نماز عصر حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب اور دخت کرام حضرت امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کا نکاح حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی نے پندرہ ہزار روپے حق مہر پر پڑھا۔حضرت مولانا صاحب اس عظیم سعادت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یہ خدا کی عظیم الشان نعمت اور رحمت ہے اور ان کو نصیب ہوئی ہے جن کو خدا تعالیٰ نے حجتہ اللہ فرمایا ہے۔اس سے میری مراد حضرت نواب صاحب ہیں۔حضرت مسیح موعود کی ایک بیٹی جس کے گھر میں جائے اس کو کس قد رسعادت ہے لیکن بتاؤ اس کی سعادت کا کس طرح اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جس کی طرف حضرت مسیح موعودؓ کی دوسری بیٹی بھی خدا تعالیٰ کا فضل لے جائے۔اگر ہزار ہا سلطنتیں اور بادشاہتیں بھی حضرت نواب صاحب کے پاس ہوتیں اور انہیں آپ قربان کر کے حضرت مسیح موعود کا دیدار کرنا چاہتے تو ارزاں اور بہت ارزاں تھا لیکن اب تو انہیں خدا تعالی کا بہت ہی شکر کرنا چاہئے کہ انہیں خدا تعالیٰ کے ایک بہت ہی عظیم الشان نبی کی بیٹی مل گئی ہے اور دوسری بیٹی بھی ان ہی کے صاحبزادے کے نکاح میں آئی ہے۔“ (( رفقاء ) احمد جلد 2 صفحہ (297)