حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب ؓ — Page 9
15 14 کہ میری نظر نہ لگ جائے۔میں نے جھٹ اپنی آنکھیں نیچی کر لیں اور پھر یہ نظارہ جاتا رہا۔اس وقت میں مکمل طور پر جاگ رہا تھا۔بالکل نیند کی حالت یہ تھی۔خواب میں مریض کو یکدم تندرست ہوتا دیکھنا عام طور پر منذر ہوتا ہے مگر ساتھ ہی چونکہ الحمد للہ کہا ہے اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ یہ نیک اور مبشر خواب ہے۔“ الفضل 23 نومبر 1950 ، صفحہ 4) معجزانہ شفایابی اور شکر خداوندی دوستوں کی خدمت میں درخواست دعا کے عنوان کے ماتحت آپ اس معجزانہ شفا کا ذکر کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں: " مجھے 8 فروری 1949ء کو کارونری تھر میبوسس Coronary) (Thrombosis کا اس قدر شدید حملہ ہوا کہ لاہور کے ایک مشہور ڈاکٹر جب دوسرے دن میرے کمرے سے نکلے تو مجھے زندہ دیکھ کر miracle,miracle ( معجزه معجزہ) کہتے ہوئے نکلے۔ان کو یہ خیال ہی نہ تھا کہ آج رات میں زندہ کاٹ سکوں گا۔میری اس بیماری سے رہائی محض اللہ تعالیٰ کے کرم کا نتیجہ ہے۔میں آج سے 5 سال قبل ختم ہو گیا ہوتا لیکن میرے بزرگوں، میرے عزیزوں ، میرے مخلص دوستوں اور اس برادری کے افراد نے جن کو حضرت مسیح موعود نے ایک دوسرے کے ساتھ منسلک کر دیا ہے، میری چلتی پھرتی تصویر انھیں کی دعاؤں کا کرشمہ ہے، جو انھوں نے مضطر بانہ اور بے قراری کے جذبہ کے ماتحت میرے لئے کیں۔انھوں نے مجھے اپنے مولیٰ کریم جو کہ جی قیوم اور سمیع ہے مانگ کر صبر کیا۔ایک مخلص بہن نے میری بیوی کو لکھا کہ جب انھوں نے میری تشویشناک حالت کو اخبار میں پڑھا تو وہ سجدہ میں گر گئیں اور اس قدر اضطراب اور بے قراری سے ان الفاظ میں دعا کی کہ جب تک اے میرے مولیٰ تو مجھے ان کی صحت کے متعلق مطمئن نہیں کر دیتا میں تیرے حضور سے سر نہیں اٹھاؤں گی، چنانچہ ان کو تسلی مل گئی تو پھر انھوں نے بارگاہ ایزدی سے سر۔۔۔۔۔۔اٹھایا پھر فرماتے ہیں: پھر میں کس کس بات کا شکر یہ ادا کروں یہ میری خوش نصیبی سمجھئے یا حسن اتفاق کہ اس کڑے وقت میں سارا خاندان ایک جگہ اکٹھا تھا۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی اس بیماری کے ایام میں مہربانی فرماتے رہے۔ان کی خاص دعاؤں کا مورد بنارہا کہ انھوں نے میرے اچھا ہونے سے پہلے خواب میں مجھے پورا صحت یاب دیکھا۔پھر حضرت اماں جان جو کہ میرے لئے ماں سے بڑھ کر تھیں ، میں اپنی ماں کی محبت سے محروم تھا کیونکہ میں بچہ ہی تھا کہ وہ فوت ہو گئیں لیکن اس کمی کو حضرت اماں جان کی محبت نے پورا کر دیا۔جب میری طبیعت زیادہ خراب ہوتی تو وہ فوراًمیری چارپائی کے پاس آن کر بیٹھ جاتیں۔نہ صرف دعا کرتیں بلکہ ان کا پر سکون چہرہ اور پر امید چہرہ میرے لئے ایک بیش بہا آسرا ہوا کرتا تھا۔پھر اپنی والدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کا شکر یہ ادا کرنے کے لئے الفاظ نہیں پاتا۔انھوں نے میری محبت میں ایک سال نہایت تکلیف اور بے آرامی میں میرے کمرے میں گذارا۔ہر قسم کے آرام و آرائش کو چھوڑ کر میرے آرام میں لگی رہیں۔نہ صرف یہ کیا بلکہ جماعت میں جو مضطر بانہ اور بے قراری کا جذبہ دعا کے لئے پیدا ہوا، زیادہ یہ انہیں کی تحریک کا نتیجہ تھا۔اب میں یہاں آکر اپنی بیوی حضرت دخت کرام امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کا ذکر نہ کروں تو نہایت ناشکری اور ظلم ہوگا۔یہ نور کا ٹکڑہ حضرت مسیح موعود کا جگر گوشہ جو کہ میرے پہلو کی زینت بنا ہوا ہے۔کس خدمت اور کس نیکی کے عوض مجھے حاصل ہوا