حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب ؓ — Page 21
39 38 دیانت کے متعلق ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ تک نہیں مل سکتا۔میں نے کہا۔ہاں مجھے سب معلوم ہے۔اس نے کہا۔تو پھر آپ کیا سمجھ کر ایک دفعہ ان کا کلیم ایک عدالت میں پیش تھا۔حاکم نے وکیل کے دلائل سن کر فیصلہ کیا کہ میرے پاس آئے ہیں؟ میں نے جواباً کہا کہ دراصل وکیل کو اس اراضی کے متعلق علم نہیں تھا اور اگر نواب صاحب یہ حلف نامہ عدالت میں داخل کر دیں کہ اس کے علاوہ انہوں نے ابھی تک کوئی والد صاحب نے حقیقت کو اپنے بیان میں درج کیا ہے اور وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس کا نتیجہ زمین بطور شیڈول نمبر 6 حاصل نہیں کی تو ان کا اتنے لاکھ کا کلیم منظور کیا جاتا ہے۔اور اس حلف کیا ہوسکتا ہے۔مجھے افسوس ہے کہ میں نے آپ کا وقت ضائع کیا ہے۔یہ کہ کر میں باہر جانے نامہ کے داخل کرنے کی میعاد صرف چوبیس گھنٹے مقرر کی۔پڑتال کرنے پر معلوم ہوا کہ قریباً کے لئے دروازہ کی طرف بڑھا۔ابھی بمشکل دروازہ تک ہی پہنچا تھا کہ افسر موصوف نے بڑی 18 کنال اراضی کسی غلط فہمی کی وجہ سے الاٹ ہو چکی ہے۔وکیل نے والد صاحب سے کہا کہ نرمی سے ٹھہرنے کی درخواست کی اور پھر مجھے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کر کے گھنٹی سے اپنے سٹینو کو بلا زمین ہم واپس کر دیں گے۔آپ حلف نامہ داخل کر دیجئے۔والد صاحب نے کہا کہ آپ چوبیس کر میرے سامنے فیصلہ لکھوایا کہ ہم نے اچھی طرح سے اپنی تسلی کر لی ہے کہ مدعی کے پاس اٹھارہ گھنٹے میں اراضی واپس نہیں کر سکتے اور میں غلط حلفیہ بیان نہیں دے سکتا۔اس لئے آپ حلف کنال کے سوا اور کوئی اراضی نہیں۔اس لئے اس کے کلیم میں سے اٹھارہ کنال کی قیمت وضع کر کے باقی کلیم کا اسے حق پہنچتا ہے۔ثبوت کے لئے مدعی کا حلفی بیان کافی ہے۔اس حق گوئی کی دلائل کے بعد آپ کے پاس اگر ایک انچ زمین بھی پائی گئی تو آپ کا کیس خراب ہو جائے برکت سے اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی حالات میں فضل فرمایا۔گا۔اور آپ کو ایک پیسہ کا معاوضہ نہیں ملے گا۔آپ نے جواب دیا کہ میں ایسے حلف نامہ پر دستخط نامہ میں تحریر کر دیجئے کہ ہمارے پاس اٹھارہ کنال اراضی ہے۔وکیل نے کہا کہ میرے پیش کردہ کرنے کو ہرگز تیار نہیں۔اول تو آپ کو جرات کیسے ہوئی کہ آپ مجھ سے اس قسم کی غلط بیانی کی توقع رکھیں۔ان حالات میں اگر آپ میری وکالت کے فرائض سرانجام نہیں دے سکتے تو آپ اپنے آپ کو اس ذمہ داری سے سبکدوش سمجھیں اور پھر مجھ سے کہا کہ ایک حلف نامہ تحریر کر کے لاؤ جس میں لکھو کہ میرے پاس اٹھارہ کنال سے زائد کوئی اراضی نہیں ہے۔چنانچہ ایسے حلف نامہ پر دستخط کر کے مجھے فرمایا کہ جاؤ اس افسر کے پاس لے جاؤ اور ساتھ ہی بآواز بلند انَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھا۔(( رفقاء ) احمد جلد 12 صفحہ 179,180) میاں عبداللہ خان کے کام تو خدا کرتا ہے حضرت میاں عبداللہ خان صاحب اس قصے کو بڑے فخر سے بیان کیا کرتے تھے کہ ایک دفعہ حضرت مصلح موعود نے محمد آباد اسٹیٹ کے کارکنان کو کسی بدانتظامی پر تنبیہ کی اور فرمایا کہ تمہارے قریب ہی میاں عبداللہ خان کی اسٹیٹ نصرت آباد ہے۔وہ کیسی عمدگی سے اس کا چونکہ آپ کی آخری عمر میں آپ کی جائیداد کا انتظام میرے سپرد تھا اس لئے مجھے بخوبی انتظام کر رہے ہیں۔حالانکہ وہ ذاتی طور پر زیادہ عرصہ وہاں نہیں رہتے اور تمہیں میں نے یہاں معلوم تھا کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس حلف نامہ کو افسر کے رو برو پیش کرنے ہر قسم کی سہولتیں دے رکھی ہیں۔لیکن پھر بھی تم کام ٹھیک نہیں کرتے۔جب حضور ناراض ہو چکے تو میں میں نہایت شرم محسوس کر رہا تھا۔چنانچہ جب میں نے یہ کا غذ اس کے سامنے پیش کیا تو اس آخر پر نرمی سے فرمایا کہ اصل بات یہ ہے کہ میاں عبد اللہ خان کے کام تو خدا کرتا ہے۔نے پڑھ کر نہایت غصہ سے مجھے مخاطب کر کے کہا کہ یہ کیا ہے؟ کیا آپ کے وکیل کے تمام دلائل اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے ہمیں اپنے تمام بزرگوں کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین غلط اور بے بنیاد تھے؟ کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس حلفیہ بیان کے بعد آپ کو معاوضہ کا ایک پیسہ