حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب ؓ

by Other Authors

Page 12 of 22

حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب ؓ — Page 12

21 20 صلى الله میں ایمان رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنی صفات کے ساتھ وحدہ لا شریک ہے۔حضور سرور کائنات نبی کریم ﷺ خاتم النبین ہیں اور حضرت مرزا غلام احمد صاحب کو مسیح موعود اور مہدی آخر الزمان متصور کرتا ہوں۔آپ نے عشق نبی کریم صلى الله ے میں اس قدر کمال حاصل کیا کہ آپ مَنْ فَرَّقَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْمُصْطَفَى فَمَا عَرَفَنِي وَ مَا رَای کے مصداق ٹھہرے اور کلی طور پر فنافی الرسول کا مقام حاصل کیا اور حضور کی غلامی میں نبوت کا درجہ حاصل کیا۔میرے ایمان کا جزو ہے کہ خلافت کا قیام الہی سلسلوں کے قیام اور بقاء کے لئے لازمی اور ضروری ہے۔جو سلسلہ اس نظام سے بدقسمتی سے محروم ہو گیا ہے اس کو کبھی استحکام حاصل نہیں ہو سکا۔ایک منتشر پراگندہ گروہ ہو کر رہ گیا۔میری دعا اور آرزو ہے کہ میری اولا دخلافت سے منسلک رہے اور ہمیشہ اس گروہ کا ساتھ دیں جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد کے افراد زیادہ سے زیادہ ہوں کیونکہ حضور سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اِنِّی مَعَكَ وَمَعَ أَهْلِكَ (میں تیرے اور تیرے اہل کے ساتھ ہوں )۔نماز باجماعت ادا کرنے کی کوشش کریں اور ہر مصیبت میں مولیٰ کریم کو قادر مطلق خدا تصور کرتے ہوئے اس کے حضور جھک کر عجز وانکسار سے استقامت طلب کریں۔میں نے اسی طریق سے زندہ خدا کو پایا اور اپنی مشکلات کو کافور ہوتا دیکھا۔حقوق اللہ اور حقوق العباد کا خاص خیال رکھیں۔ہمیشہ ان کے سامنے یہ بات ہونی چاہیے کہ وہ کس ماں کی اولاد ہیں اور کس نانا کے وہ نواسے اور نواسیاں ہیں۔کس مقام کا ان کا ماموں ہے اور وہ اس دادا کی اولاد ہیں جس نے اپنی اور اپنی اولا دسنوارنے کے لئے اپنے وطن کو چھوڑا اور محلات کو چھوڑ کر ایک کور بستی میں ایک تنگ مکان میں بسیرا کیا اور صرف اس لیے حضرت مسیح موعود کے قدموں میں آن بیٹھا تا اس کو اور اس کی اولادکو از لی زندگی حاصل ہو اور دین کو مقدم کرنے کا موقعہ ملے۔“ پھر تحریر فرماتے ہیں: ”میری دعاؤں اور نیک خواہشوں کا وہی بچہ حقدار ہوگا جو اپنی ماں کی خدمت کو جز و ایمان اور فرض قرار دے گا۔ان کی ماں معمولی عورت نہیں ہیں۔میں نے ان کے وجود میں اللہ تعالیٰ کی تجلیات کو کارفرما دیکھا ہے۔ہر وقت اور ہر مشکل کے وقت ان کی ذات کو اللہ تعالیٰ کی محبت اور پیار کا محور پایا۔چار سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے حبیب کی گود سے لیا پھر عجیب در عجیب رنگ میں ان کی ربوبیت فرمائی۔میں نے اللہ تعالیٰ کے جو نشانات اپنی زندگی میں ان کے وجود میں دیکھے ہیں وہ ایک بڑی حد تک احمدیت پر ایمان کامل پیدا کرنے کا موجب ہوئے ہیں۔پس جو بچے میرے بعد ان کو خوش رکھیں گے اور ان کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کریں گے ان کے ساتھ میری دعائیں اور نیک آرزوئیں ہوں گی۔جو بچے ان کو ناراض کریں گے وہ میری روح کو دکھ دیں گے میں ان سے دور وہ مجھ سے دور ہوں گے۔“ مرض الموت 66 (( رفقاء) احمد جلد 12 صفحہ 95,96) مرض الموت میں آپ نے 1949 ء کے دورہ مرض کے حالات اور موجودہ حالت مرض بیان کر کے صحت اور خاتمہ بالخیر کے لئے درخواست دعا کرتے ہوئے رقم فرمایا: ” مجھے 49ء میں کا رونری تھر مبوسس کا حملہ ہوا تھا۔یہ حملہ اس قدر شدید تھا کہ پانچ سال تک مجھے چار پائی پر رہنا پڑا۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے محض اپنے رحم وکرم سے اس قدر فضل فرمایا کہ میں چار پائی سے اٹھ بیٹھا۔پھر تھوڑا بہت چلنے پھرنے لگ گیا اور گھر میں اپنی معمولی ضروریات پوری کر لیتا تھا۔پچھلے سال تک میرا دل بیمار تھا لیکن زندگی کی بشاشت باقی تھی۔کبھی دل میں کمزوری آئی۔دوائی لے لی۔آرام آ