حضرت مصلح موعود ؓ

by Other Authors

Page 9 of 18

حضرت مصلح موعود ؓ — Page 9

14 13 ہوں جو ہر زبان جاننے والے ہوں تا کہ ہم ہر زبان میں آسانی سے ( دعوت الی اللہ ) کر سکیں۔لندن میں حضرت خلیفہ المسیح الاول کے عہد میں ہی احمد یہ مشن قائم ہو چکا تھا۔آپ کی خلافت کے دوسرے سال جماعت احمدیہ کا دوسرا بیرونی مشن ماریشس میں قائم ہوا۔۳۱ مئی ۱۹۱۴ ء کو حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی بیٹی حضرت امتہ اُٹئی صاحبہ سے آپ کا نکاح ہوا۔ان کے تین بچے ہوئے۔جن کے نام یہ ہیں:۔صاحبزادہ مرزا خلیل احمد صاحب مرحوم۔صاحبزادی امتہ القیوم صاحبہ۔صاحبزادی امتہ الرشید صاحبہ۔۱۹۰۰ ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا تھا۔” تائی آئی یہ الہام یوں پورا ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر صاحب کی بیوی نے جو حضرت مصلح موعود کی تائی تھیں مارچ ۱۹۱۶ء میں حضور کے ہاتھ پر بیعت کی۔جماعت کے تربیتی کام بڑھتے جارہے تھے اس لئے حضرت مصلح موعود نے ۷ د دسمبر ۱۹۱۷ء کوزندگی وقف کرنے کی تحریک فرمائی۔اس تحریک پر سب سے پہلے ۶۳ نوجوانوں نے اپنے نام پیش کئے جن میں مولوی عبدالرحیم صاحب، شیخ یوسف علی صاحب ، صوفی عبد القدیر صاحب نیاز ، صوفی محمد ابراہیم صاحب ، مولوی جلال الدین صاحب شمس ، مولوی ظہور حسین صاحب، شیخ محمود احمد صاحب عرفانی وغیرہ تھے۔جیسا کہ ہم نے پہلے لکھا ہے کہ آپ کی صحت کچھ عرصہ سے زیادہ خراب ہوگئی تھی۔۱۹۱۸ ء میں حضور زیادہ بیمار ہو گئے تو ڈاکٹروں نے بمبئی جانے کا مشورہ دیا۔چنانچہ سرمئی ۱۹۱۸ ء کو آپ قادیان سے روانہ ہوئے اور لاہور میں ناک اور حلق کا علاج کرانے کے بعد بمبئی تشریف لے گئے وہاں جا کر آپ کی طبیعت اچھی ہوگئی اور ۱۵رجون ۱۹۱۸ ء کو آپ واپس قادیان آگئے۔آپ کو جماعت کے ہر قسم کے لوگوں کا خیال رہتا تھا۔آپ کے کہنے پر قادیان میں احمدی یتیم بچوں کے لئے 1919ء میں احمد یہ یتیم خانہ قائم کیا گیا تا کہ یتیم بچوں کا کوئی ٹھکانہ بن جائے۔اس یتیم خانہ کے افسر حضرت میر قاسم علی صاحب مقرر ہوئے۔۲۱ فروری ۱۹۲۱ء کو حضرت فضل عمر ( حضرت مصلح موعود کا ایک الہامی نام) نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک رفیق حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب کی بیٹی حضرت سیدہ مریم بیگم صاحبہ سے شادی کی۔ان کو اللہ میاں نے ۴ بچے دیئے جن کے نام یہ ہیں۔حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب خلیفتہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی۔صاحبزادی امتہ الحکیم صاحبہ (مرحومہ)۔صاحبزادی امتہ الباسط صاحبہ (مرحومہ)۔صاحبزادی امتہ الجمیل صاحبت ۲۵ / دسمبر ۱۹۲۲ ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے لجنہ اماءاللہ کی بنیاد رکھی جس کی پہلی سیکرٹری حضرت سیدہ امتہ الحئی صاحبہ تھیں۔لجنہ کی مبرات نے حضرت اماں جان سے درخواست کی کہ اس کی صدارت قبول فرما ئیں لیکن پہلے اجلاس میں ہی آپ نے حضرت ام ناصر صاحبہ کو اپنی جگہ بٹھا کر لجنہ کا صدر بنادیا۔لجنہ کے ساتھ ساتھ ناصرات